تعلیمی سرگرمیاں دوبارہ بحال

ملک کے مختلف حصوں میں ایک ماہ سے بند تعلیمی سرگرمیوں کا مرحلہ وار آغاز ہوگیا ہے۔

پہلے مرحلے میں اسلام آباد ،پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں  10ویں اور 12ویں جماعت کے لیے تعلیمی ادارے آج سے کھول دیے گئے ہیں۔

دوسرے مرحلے میں آٹھویں ، نویں اور گیارہویں جماعت کی کلاسز کا آغاز 7 جون سے ہوگا۔

این سی او سی کی جانب سے تعلیمی اداروں میں 50 فیصد طلبہ کی حاضری  کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں  ،پچاس فیصد طلبہ ایک دن جبکہ  باقی پچاس فیصد طلبہ اگلے دن کلاس میں آئیں گے،طلباء اور اساتذہ کو کورونا ایس پیز پر  مکمل طور پر عمل کرنا لازمی ہوگا۔

طلباء کی حاضری

ذرائع کے مطابق آج اسکولوں میں طلباء کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آئی ہے ،طلباء کی تعداد مقرر کردہ تعداد 50 فیصد سے بھی کم تھی جسکی وجہ یہ ہے کہ این سی او سی کا نوٹیفیکشن رات ساڑھے گیارہ کے بعد جاری کیا گیا تھا لہذا جن طلباء کو سرکولرز  موصول ہو گئے  انہوں نے آج جوائن کرلیا  اور جو نوٹیفیکشن سے انجان تھے انکی آج حاضری نہ ہوسکی۔

 اسکول کھلنے پر آن لائن کلاسز سے پریشان طلباء نے سکون کا سانس لیا ،طلبا ء نے ایس ا و پیز کا بھی  خیال رکھا اور امتحانات کی تیاری کا آغاز کردیا۔

دوسری جانب سوات میں اسکول اور کالج کے طلباء نے امتحانی شیڈول کے خلاف احتجاج کیا ،احتجاج کے دوران طلباء نے توڑپھوڑ اور ہنگامہ آرائی کی اور  راستے کھولنے کا مطالبہ کرنے والے شہریوں کو چھریاں مار دیں جسکے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوگئے۔ ہفتہ کے روز راولپنڈی اور فیصل آباد میں بھی امتحانات کے خلاف اسی قسم کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا تھا جس میں طلباء نے قانون کی خلاف ورزی کی اور شہریوں کو ان طلباء کی وجہ سے شدید تکالیف کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button