شہباز شریف کو لائیو دکھانے کی درخواست

وفاقی وزیروں نے تجویز پیش کردی کہ شہباز شریف کے کیسوں کی سماعت براہ راست نشر کی جانے کی اجازت دی جائے ۔شہباز شریف کی پریس کانفرنس کے جواب میں حکومتی وزراء میدان میں آگئے اور ہر ہر تیر کا پلٹ کر وار کیا۔

فواد چوہدری کہتے ہیں کہ چیف جسٹس صاحب سے اپیل کرتے ہیں کہ یہ جو شہباز شریف پر  اور دیگر پر ہائی پروفائل کیسز ہیں،ان کو لائیو دکھانے کی اجازت دیں۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف صاحب نے پریس کانفرنس کی۔ 25 ارب روپےکی یہ رقم اور اسکے بعد جو دوسرے کیسز بنے ہیں،ان میں انکا جواب کیا ہے۔

جب آپ ان سے پوچھتے ہیں کہ ذاتی اکاؤنٹس میں اربوں روپے کہاں سے نکل آئے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے پنجاب میں میٹرو بنائی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ سوال گندم کا ہورہا ہے اور یہ جواب چنے کا دے رہے ہیں ، کوئی تیار ہی نہیں ہے آکر جواب دینے کو، پھر کہتے ہیں پنجاب کی بڑی خدمت کی ہے۔

بچے کی پیدائش بعد میں ہوتی ہے، اپارٹمنٹ پہلے دنیا کے کسی بڑے شہر میں اس بچے کے نام ہوجاتا ہے۔ ابھی تو بیٹوں کی جائیدادیں سامنے آئی ہیں، بہت جلدی پوتوں اور نواسوں کی بھی آنی ہیں۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ ایف آئی اے انٹرویوز لائیو ہونے چاہیے۔ ٹی ٹی کیس شہباز شریف کے ذاتی اثاثوں کا مقدمہ ہے۔

شہباز شریف کا غصہ

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کو لندن جانے سے روکنے پر غصہ ہے، پھر ذاتی اثاثوں کے کیس میں ایف آئی اے کے سوالات اور بھی ناگوار گزرے جس پر وہ قوم کو گمراہ کر رہے ہیں۔

ان سے سوال کیا جائے تو وہ ہراساں کرنے کا الزام لگا دیتے ہیں۔ اب چبھتے ہوئے سوالات سےآپ ہراساں ہوتے ہیں تو اب معذرت ہی کر  سکتے ہیں ہم آپ سے۔

جب سے انہیں لندن جانے نہیں دیا تو چھوئی موئی شریف بنے ہوئے ہیں۔ بات بات پر یہ ناراض ہوجاتے ہیں۔ شہباز شریف کو ہراساں کرنے کی کوشش ہوئی ضرور ہے مگر ان کے ہونہارسپوت نے ہی کی ہے جو کہ پنجاب کے لیڈر آف اپوزیشن ہیں  ۔

حماد اظہر بولے بجلی کی پیداواری صلاحیت اس وقت بہت زیادہ ہے ۔ ساڑھے24 ہزار میگا واٹ سسٹم میں بن رہی ہے۔

 اس وقت کہیں لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے تو وہ ترسیل کی وجہ سے ہے۔سستے معاہدے کیے تھے تو 12 سو ارب روپے کے گردشی قرضے کیوں بڑھے۔

حکومتی رہنماؤں کا یہ بھی کہنا تھا کہ جیالوں کی سندھ سرکار اور متوالوں  کی پنجاب حکومت کو دیے گئے اربوں روپے کے  فنڈز دوبئی،لندن اور فرانس سے برآمد ہوتے ہیں،کوئی اسکا بھی تو جواب دے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button