مختلف ممالک کے نمائندے اور سربراہان اور فلسطین

جنوبی افریقہ کے صدر کا کہنا ہےکہ”اسرائیل نسلی بنیادوں پر فلسطین کو نشانہ بنا رہا ہے،فلسطینیوں کے حق کو تسلیم کرنا ہوگا”۔

امریکی وزیر  خارجہ نے بھی آج اسرائیلی وزیر خارجہ سے  فلسطین کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور جنگ بندی پر زور دیا ۔

جرمن وزیر خارجہ آج فلسطین میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے اسرائیل کا دورہ کریں گے اور فلسطینی صدر سے بھی ملاقات کریں گے۔

امریکی اعوان کے نمائندگان نے امریکہ سے فلسطین میں جنگ بندی کرانے کا مطالبہ کردیا ،130 سے زیادہ اراکین کانگریس نے جو بائیڈن کو خط لکھا  جس میں فلسطین اور اسرائیل میں جنگ بندی کرانے پر زور دیا گیا،کہا گیا کہ فلسطین میں جاری کشیدگی کو روکا جائے،حالیہ کشیدگی میں خواتین اور بچے شہید ہورہے ہیں،مزید جانی نقصان نہیں ہونا چاہیے۔

آج امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور  اسرائیلی وزیر اعظم سے غزہ حملوں میں کمی اور کشیدگی کے فوراً خاتمے کا مطالبہ کیا۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے مطالبے پر عمل سے  صاف انکار کردیا اور کہا کہ اہداف اور مقاصد کے حصول تک حملے جاری رہیں گے۔

حملے جاری

اسرائیلی وزیر اعظم نے امریکی وزیر اعظم کو بتایا کہ اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے غزہ میں حماس  کی 100 کلو میٹر طویل سرنگوں کو تباہ کردیا ہے، ایک اسرائیلی عہدیدار کا یہ بھی کہنا ہے کہ جمعے سے پہلے کسی صورت حملے بند نہیں کیے جائیں گے ۔

غزہ پر اسرائیلی حملوں کے معاملے پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس آج  شام 7 بجے ہوا،یہ اجلاس او آئی سی کی درخواست پر بلایا گیا تھا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی   نےفلسطین کی صورتحال اور اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز اٹھائی ۔

وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر وزیر خارجہ قریشی "فلسطین میں امن مشن”  پر نیویارک میں ہیں جہاں انہوں نے جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس میں شرکت کے لیے آئے وزراء خارجہ کے  اعزاز میں عشائیہ بھی دیا  اور بعد میں خطاب کے دوران فلسطین میں اسرائیلی جارحیت فوری رکوانے کا مطالبہ بھی کیا،انہوں نے کہا کہ ہم سب فلسطینیوں کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ہم اور تمام مسلم امہ انکے ساتھ ہیں۔

فرانس نے بھی فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی  کے معاہدے کے لیے مجوزہ قرارداد تیار کی ہے جسے سلامتی کونسل  کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا،امریکہ نے عندیہ دیا ہے ہے کہ اگر فرانس نے ایسی کوئی قرارداد پیش کی تو  وہ اسے ویٹو کردے گا ۔

امریکی ترجمان

امریکی ترجمان نے کہا کہ  امریکہ کی توجہ مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی کم کرانے پر ہے  جس کے لیے وہ سنجیدہ  سفارتی اقدامات کر رہا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ایسی کسی قرارداد سے ان کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔

 برطانوی رکن پارلیمینٹ سعیدہ وارثی  فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت پر برہم ہوگئیں ،خطاب میں کہا کہ برطانوی حکومت نے فلسطین میں اسرائیلی بمباری اور جارحیت کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا،اسرائیل فلسطین میں نسل کشی کر رہا ہے ،فلسطین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس کا کہنا ہے ہمیں اپنے لوگوں کو بچانا ہے،صورتحال کو قابو کرنے کے لیے جنگ بندی ضروری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button