سندھ میں ریکارڈ توڑ لوڈ شیڈنگ

کراچی میں گرمی اور حبس کے موسم میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے شہریوں کو اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے،بجلی بندش کا دورانیہ ڈیڑھ -دو  گھنٹے اضافے  سے بارہ گھنٹے تک پہنچ گیا  ہے۔

دن میں 3 سے 4 بار ہونے والی بجلی کی بندش کے دورانیے میں   مسلسل اضافہ جاری ہے ،شہر کے مختلف علاقوں میں اب 3 سے 12 گھنٹے  کی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے ،جس سے شہریوں کے روز مرہ امور شدید متاثر ہورہے ہیں۔

بجلی سے مستثنی علاقوں میں بھی فالٹس اور لوڈ مینجمنٹ  کےنام پر بجلی بند کردی جاتی ہے،بریک ڈاؤنس کی وجہ سے کئی کئی گھنٹے بجلی غائب رہنا معمول بن گیا ہے۔

ادھر کے الیکٹرک کا موقف حسب روایت وہی ہے کہ کہیں غیر اعلانیہ بجلی بند نہیں کی جارہی،نیشنل پاور پالیسی کے تحت لاسز اور بجلی چوری والے علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔

کے الیکٹرک کا دعوی ہے کہ کراچی شہر میں 3200 میگا واٹ سے زائد بجلی فراہم کی جارہی ہے۔

دوسری جانب حیدرآباد  سمیت اندرون سندھ میں بھی شدید گرمی کے موسم میں طویل دورانیے کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ معمول بن گئی ہے ۔

بارہ سے پندرہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کے باعث لاکھوں شہری  عذاب کا شکار ہیں،فیڈرز کی ٹرپنگ ،تاروں کا ٹوٹنااور ٹرانسفارمرز جلنا معمول بن کر رہ گیا ہے۔

حیسکو کے نئے چیف ایگزیکٹو  آفسر ریحان حمید کا کہنا ہے کہ  حیسکو کے بجلی کی ترسیل کے نظام  کو بہتر بنانے اور چوری ختم کرنے کے لیے اقدامات کرنے سے شہری بجلی چوری نہیں کر سکیں گے۔حیسکو چیف کا دعوی تھا کہ آئندہ 6 ماہ میں   حیسکو میں نئی تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔

ماڈرن گرڈ اسٹیشنز اور فیڈرز بنائے جارہے ہیں جہاں کتنی ہی بارش کیوں نہ ہو فیڈر ٹرپ نہیں ہوگا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button