رجب طیب اردگان نے ایک اور مسجد کا افتتاح کردیا

ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے جمعہ کے روز استنبول میں  ایک اور مسجد کا افتتاح کیا ، جس  کا خواب انہوں نے  دودہائیوں قبل  دیکھا تھا  جب 1994 میں وہ استنبول کے میئر مقرر ہوئے تھے۔

اس مسجد کا  افتتاح ابتدائی طور پر رمضان کے مقدس مہینے کے دوران ہونا تھا لیکن   اپنی روایات اور تاریخ  کو اہمیت دینے والے اردگان نے آخر کار اس دن مسجد کو کھولنے کا انتخاب کیا جب 2013 میں حکومت مخالف  انقلابی مظاہرے شروع ہوئے تھے۔

 تقسیم اسکوائر ان مظاہروں کا مرکز تھا جو "گیزی موومنٹ” کے نام سے جانے جاتے تھے۔

اردگان نے افتتاح کے موقع پر کہا کہ انہوں نے مسجد تقسیم کو استنبول کی فتح کی 568 ویں سال کی مبارکباد کے طور پر اس دن کھولا ہے۔

رجب طیب اردگان نے مسجد تقسیم میں  نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد  خطاب میں کہا  کہ اے لوگو!استنبول کی علامتوں میں اب تقسیم مسجد ایک نمایاں علامت ہے۔

فروری 2017 میں اس مسجد کی تعمیر کا آغاز ہوا  تھا ،یہ رجب طیب اردگان  کا شروع کیا گیا منصوبہ تھا ، لیکن عدالتی لڑائیوں اور عوامی بحث و مباحثے سے کئی دہائیوں تک  یہ مکمل نہ ہوسکا تھا۔

افتتاحی تقریب

مسجد کے افتتاح میں لوگوں کا جوش و خروش دیدنی تھا ، کئی ہزار افراد  نے تقسیم اسکوائر میں باہر نماز پڑھی کیونکہ مسجد  نمازیوں سے بھری ہوئی تھی ۔

ترک خبر رساں ادارے نے بتایا کہ دوتقسیم  مسجد کمپلیکس میں 4،000 سے زیادہ نمازیوں کے لیے  بیک  وقت نماز پڑھنے کی جگہ  ہوگی،  اور اس میں ایک نمائش ہال ، ایک لائبریری ، کار پارک اور سوپ کچن  بھی ہوگا۔

سن 1990 کی دہائی میں جب اردگان نے استنبول کے میئر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں  اس وقت انہیں تقسیم چوک میں ایک مسجد کی عدم موجودگی ہمیشہ محسوس ہوتی تھی ۔

اردگان نے جمعہ کو کہا  کہ "اگرچہ ترکی ایک مسلم اکثریتی ملک ہے ، لیکن اس مسجد کی تعمیر کو اس وقت تنقید کا نشانہ بنایا گیا جب اس کی شروعات 2017 میں ہوئی تھی ، کچھ مخالفین نے الزام لگایا تھا کہ اردگان ملک کو  ایک نان سیکیولر اور دقیانوسی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔

لیکن آج تقسیم اسکوائر پر مسجد اور اس سے کچھ مسافت پر  قدیم چرچ کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ترکی ایک  مذہبی اور  سیکیولر ریاست ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button