کوئٹہ سر ینہ ہوٹل میں دھماکہ

صوبہ بلوچستان  کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے علاقہ سرینا چوک میں واقع لگژری ہوٹل کی پارکنگ میں بدھ کی شام ایک بم دھماکے میں چار افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوگئے ۔

ٹوئیٹر پر بات کرتے ہوئے کوئٹہ کے ڈپٹی کمشنر نے نقصان کی تصدیق کردی ۔ پولیس کے مطابق ، ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ دھماکے کا سبب وہ دھماکہ خیز مواد تھا جو کہ پارکنگ میں کھڑی کار کے اندر نصب کیا گیا تھا ۔ دھماکے کی شدت کے باعث علاقے میں کھڑی متعدد گاڑیاں تباہ ہوگئیں ، پولیس نے مزید بتایا کہ زخمیوں کو کوئٹہ کے سول اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کے فورابعد فائر بریگیڈ کا عملہ پارکنگ ایریا پر آگ بجھانے کے لئے پہنچا ، فائر فائٹرز آگ بجھانے میں کامیاب ہوگئے اور فی الحال ٹھنڈا کرنے کا عمل جاری ہے ۔ دھماکہ اپنی شدت کی وجہ سے کئی کلومیٹر دور بھی سنا جاسکتا تھا۔

دھماکے کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی وزارت داخلہ بلوچستان حکومت سے قریبی رابطے میں ہیں اور دھماکے سے متعلق ابتدائی تفتیش جاری ہے ۔ انہوں نے ٹویٹر پر مزید لکھا جیسے ہی دھماکے کی نوعیت اور نقصان کا تعین ہوجائے گا حکومت اس بارے میں بیان جاری کرے گی ۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے آئی جی بلوچستان محمد طاہر رائے نے کہا کہ پولیس ابھی بھی دھماکے کی شدت اور دھماکے میں کتنے کلو گرام دھماکہ خیز مواد کا استعمال کیا گیا  تھا اس بات کا اندازہ لگا رہی ہے ۔ انہوں نے دھماکے میں تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے مزید نو افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ،طاہر رائے نے بتایا کہ دھماکے سے پارکنگ ایریا میں پانچ سے چھ گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں ، انہوں نے کہا کہ دھماکے کے وقت کوئی سفیر یا غیر ملکی وفد کے ممبر ہوٹل میں موجود نہیں تھے ۔ طاہر رائے نے کہا کہ پولیس فورس کے ماہرین واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں ، انہوں نے مزید کہا کہ وہ جلد ہی تحقیقات کی تفصیلات کو  جاری کریں گے۔

Back to top button