بھارت کے مسلمان کوویڈ میں مدد کیلیے سرگرم

ممبئی کے آکسیجن مین شاہنواز شیخ کے بعد اب ناگپور کے ایک خود ساختہ ارب پتی پیارے خان کی کہانی بھی منظر عام پر آگئی ہے ، جس نے مبینہ طور پر ناگپور اور اس کے آس پاس کے 400 اسپتالوں میں 400 میٹرک ٹن میڈیکل مائع آکسیجن پہنچا نے کو یقینی بنانے کے لئے 85 لاکھ روپے خرچ کیے ہیں۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ، انہوں نے اب تک 32 ٹن آکسیجن فراہم کی ہے ، جس سے سیکڑوں افراد کی زندگیاں بچیں۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگرچہ انتظامیہ نے اسے آکسیجن ٹرانسپورٹ کے لئے معاوضے کی پیش کش کی ہے ، لیکن پیارے خان نے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ رمضان کے مقدس مہینے میں یہ خرچ ان کی زکوٰۃ کا ایک فرض حصہ تھا۔ خاص طور پر زکٰوۃ ایک مذہبی فریضہ ہے ، اور تمام مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ ہر سال دولت کے ایک خاص حصے کو خیراتی کاموں کے لئے عطیہ کریں۔

ان کا کہنا ہے کہ بحران کے وقت آکسیجن پر خرچ کرنا انسانیت کی خدمت ہے،یہاں تک کہ جب اسے بنگلور سے دو کرائیوجینک گیس ٹینکروں کی خدمات حاصل کرنے کے لئے تین گنا زیادہ قیمت ادا کرنا پڑی اس وقت بھی خان نے سودے بازی نہیں کی اور آسانی سے رقم ادا کردی، اس نے ٹینکروں کے لئے مارکیٹ کی قیمت سے 14 لاکھ روپے زیادہ ادا کیے۔

پیارے خان کا مشن

پیارے خان کا اب مقصد ناگپور میں ایمس ، گورنمنٹ میڈیکل کالج اینڈ اسپتال (جی ایم سی ایچ) اور اندرا گاندھی گورنمنٹ میڈیکل کالج اینڈ اسپتال (آئی جی سی ایم سی ایچ) کو 116 آکسیجن کونسیٹرس عطیہ کرنا ہے۔ انکا کہنا ہے کے میں اپنے آکسیجن عطیات سے معاشرے کی خدمت کرسکتا ہوں ، جو اس بحران کے وقت میں تمام کمیونٹیز تک پہنچ جائے گا۔ اگر ضرورت پیش آئے تو ، ہم برسلز سے بھی کچھ ٹینکروں کو ہوائی جہاز کے ذریعےاٹھا نے کا منصوبہ بنا سکتے ہیں۔

پیارے خان ایک معمولی پھل فروش کا بیٹا ہے، جو 1995 میں ناگپور ریلوے اسٹیشن کے باہر سنترے بیچا کر تا تھا اور آج وہ 400 کروڑ روپے مالیت کی ایک کمپنی کے مالک ہیں۔

بھارت میں کووڈ کی بگڑتی ہوئی صورتحال میں مسلمانوں نے انسانیت کی خیر خواہی کو اپنا اوڑھنا اور بچھونا بنالیا ہے، دلی اور گجرات کے علاوہ کئی دیگر شہروں میں مساجد کو کورونا سینٹرز میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

ایک مسیحا اور

Rizwan khan auto driver

کوویڈ کی شدت میں جس دوران بہت سے لوگوں کو بستر ، آکسیجن اور ایمبولینسوں کی قلت کا سامنا ہے تو جاوید خان بطور انسانیت کی خدمت کے ایک سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ بھارت کے صوبہ مدھیہ پردیش کے شہر بھوپال کے مسلمان آٹو ڈرائیور جاوید خان نے ملک بھر میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے درمیان اپنے آٹو رکشہ کو ایک ایمبولینس میں تبدیل کردیا ہے جاوید کا آٹو ضروری طبی سہولیات سے آراستہ ہے جیسے آکسیجن سلنڈر ، پی پی ای کٹ ، سینیٹائزر اور آکس میٹر۔

جاوید خان کا کہنا ہے کہ میں نے سوشل میڈیا ، واٹس ایپ اور نیوز چینلز پر بہت سارے لوگوں کو دیکھا کہ ایمبولینسوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے متعدد افراد اپنے لواحقین کو کندھے پر لے جانے یا گاڑیوں پر کھینچنے پر مجبور ہیں، سوچا کہ میں انسانیت کے لئے کچھ کرسکتا ہوں تو میں نے اپنی بیوی کے سونے کا ہار 5000 روپے میں بیچا اور اس آٹو کو ایمبولینس میں تبدیل کرنے کے لئے آکسیجن سلنڈر خریدا، ایک سوال پوچھا گیا کہ جہاں پورے ملک میں آکسیجن کی قلت ہیں وہاں جاوید کس طرح آکسیجن کا انتظام کرتے ہیں انہوں نے جواب دیا، گووند پورہ میں ایک فیکٹری ہےجہاں لائن لگ بھگ 4-5 گھنٹے تک جاری رہتی ہے، آکسیجن سلنڈروں کو ری فل کرنے کی لاگت 450-550 روپے تک ہوتی ہے تو میں وہاں سے سلنڈر فل کرواتا رہتا ہوں ۔ ۔

جاوید خان نے مزید کہا کہ یہ مکمل طور پر مفت ہے، میں نے اپنا موبائل نمبر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کیا ہے ، جو بھی پریشانی میں ہے اور ایمبولینس حاصل کرنے کے قابل نہیں ہے وہ مجھے کال کرسکتا ہے، میں 24 گھنٹے لوگوں کی مدد کرنے کے لئے تیار ہوں ۔

Back to top button