پی ایس ایل 6 کی چیمپین ٹیم بنی ملتان سلطان

جمعرات کے روز ابوظہبی کے شیخ زید کرکٹ اسٹیڈیم میں ملتان سلطانز نے فائنل مقابلہ جیتنے کے لئے پشاور زلمی کو47 رنز سے شکست دے کر پچھلے چار سیزن میں تیسری بار دل شکستہ کردیا۔

سیزن کے آخری اور  فیصلہ کن میچ میں 207 کے ریکارڈ ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے ، پشاور کو ایک اوورمیں  10 رنز کارن ریٹ مطلوب تھا جو ان کے لئے بہت زیادہ ثابت ہوا۔

ان کی امیدیں  اننگز کےآغاز میں ہی  پاور پلے اوورز کے آخری لمحات میں اس وقت ختم ہوگئیں تھیں جب تیز بولر بلیسنگ موزاربانی نے حضرت اللہ زازئی کو صرف چھ رنز پر آؤٹ کیا۔ موزاربانی نے گیند کی رفتار میں تبدیلی کرتے ہوئے بہت ہوشیاری سے گیند کرائی اور  حضرت اللہ گیند کو سمجھ نہ  پائے اور شارٹ پوائنٹ پر کھڑے شان مسعود  کو کیچ دے دیا۔

جنوبی افریقہ کے سابق اسپنر عمران طاہر نے پشاور کے تابوت میں آخری کیل اپنے آخری اوور میں تین وکٹیں لےٹھونک دی ، عمران طاہر نے33 رنز دے کر 3 وکٹیں لیں  ۔

 پشاور زلمی کےصرف شعیب ملک کی طرف سے    کچھ لمبی اننگ دیکھنے کو ملی، جنہوں نے 28 گیندوں پر (تین چھکوں اور تین چوکوں کی مدد سے) 48 رنز بنا کر تنہا جنگ لڑی۔ انہوں نے رو مین پاول (23رنز)کے ساتھ  30 گیندوں میں 66    رنزکی ،پشاور کی اننگز کی واحد نمایاں شراکت داری قائم کی۔

پانچویں نمبرپر

مارچ میں کراچی میں ہونے والے پی ایس ایل 6 کے پہلے حصے میں ملتان اسکور کارڈ میں پانچویں نمبرپر کھڑا تھا ، تاہم ابوظہبی کے میچز میں اس نےچھ میں سے پانچ میچوں میں کامیابی حاصل کر کے اس سیزن میں اپنے جھنڈے گاڑ دیے، جب کہ پشاور نے شروع میں  صرف دو میچز میں شکست کے بعد  ٹورنامنٹ میں اپنا کھونٹا گاڑا ہوا تھا۔

لیکن پی ایس ایل سیزن 6کی سب سے بڑی(فائنل کی) رات ، ملتان نے ٹیم میں بغیر کسی تبدیلی  کے میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا لیکن عمیدآصف کے دستیاب نہ ہونے کے باعث پشاور کو ان کی ٹیم میں تبدیلی کرنا پڑی کیونکہ عمید آصف نے بدھ کے روز بائیو سیکیور ببل پروٹوکول کی خلاف ورزی کی تھی۔ عمید کی جگہ ساتھی سیمر، ثمین گل نے لی۔

پشاور زلمی نے پچھلے 6 میں سے 5 میچز ہدف کاتعاقب کرتے ہوئے جیتے تھے لہذا اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے جب ٹاس جیتا تو وہاب ریاض نے فوراہی بولنگ کا انتخاب کیا۔لیکن  پشاور زلمی کو  اس حقیقت کا  بھی ادراک ہونا چاہئے کہ  ملتان سلطانز  کی ٹیم نے کراچی کنگز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف دونوں ایلیمینیٹرز مقابلوں میں ہدف کا دفاع کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی تھی اور یہ بھی کہ پچھلے چار فائنلز  میں دوسرے نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے پشاور زلمی ہارتے رہے تھے۔

آل پیس اٹیک

فائنل میں پشاور زلمی  نے آل پیس اٹیک کرنے کا انتخاب کیا یعنی صرف فاسٹ بولرز کے ساتھ بولنگ کی۔ شان مسعود اور رضوان دونوں نے ایک قسم کی بولنگ اٹیک کے خلاف اپنے بلاکس سے نکلنے میں تھوڑا وقت لگایا تاہم شان نے پانچویں اوور میں ثمین کی بالز پر تین باؤنڈری لگائیں ، اس سے پہلے اوور میں رضوان نے زیادہ سے زیادہ اسکور کے لئے محمد عرفان کی بال پر اننگ  کی پہلی اسکوائر لیگ باؤنڈری ماری تھی۔

تاہم ملتان سلطانز کو پہلا نقصان پہنچا جب شان مسعود نے آگے بڑھتے ہوئے بائیں ہاتھ کے سیمر محمد عمران کی ہلکی بال پر ایک خراب ہک شاٹ آزمائی اور وہ 29 گیندوں پر 37 (چھ چوکوں) رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے ، تاہم اس وقت ٹیم کا اسکور  52 بالوں پر  68 رنز پر موجود تھا۔

رضوان ، جس نے 30 بال پر  30 (دو چوکے اور ایک چھکا) رنز بنائے اور وہ اس سال ٹی ٹونٹی کرکٹ میں ایک ہزار رنز عبور کرنے والے پہلے کھلاڑی بھی بنے ہیں ، لیکن وہ جلد ہی اپنے اوپننگ پارٹنر کے پیچھے چل پڑے اور عمران کی وائڈ بال کو کھیلتے ہوئے وکٹ کے پیچھے کھڑے کامران اکمل کو کیچ دے دیا۔

پلیئر آف دی ٹورنامنٹ

رضوان نے ٹورنامنٹ میں 500 رنز بنائے اوروکٹ کے پیچھے  12 میچوں میں 20 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا،انہیں بہترین وکٹ کیپر کی ٹرافی دی گئی۔جبکہ صہیب مقصود کو پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کے ساتھ ساتھ پلیئر آف دی میچ بھی قرار دیا گیا۔

صہیب نے انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے آنے والے دوروں کے لئے پاکستان کے وائٹ بال اسکواڈ میں شمولیت کو بڑے انداز میں مناتے ہوئے  فائنل میں چھ چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے 35 گیندوں پر 65 رنز بنائے۔

کراچی کنگز کے بابر اعظم 554 رنز بنا کر پی ایس ایل 6 کے ٹاپ اسکورر رہے جبکہ ملتان سلطان کے شاہنواز دھانی 20 وکٹوں کے ساتھ ٹاپ وکٹ ٹیکر رہے۔

شاہنواز دھانی ایمرجنگ کرکٹر آف دی ٹورنامنٹ قرار پائے جبکہ افتخار احمد ایونٹ کے بہترین فیلڈر قرار پائے ۔ صہیب مقصود نے 12 میچز میں 428 رنز بنائے اور ایونٹ کے بہترین بلے باز کا ایوارڈ بھی حاصل کیا۔

کراچی کنگز کے شرجیل خان نے پی ایس ایل 6 میں سب سے زیادہ23 چھکے لگائے اور کراچی کنگز ہی کے بابر اعظم نے سب سے زیادہ 7 نصف سینچریاں بنائیں۔ عثمان خواجہ نے 56 گیندوں پر 105 رنز کی پی ایس ایل 6 کی سب سے بڑی انفرادی اننگز کھیلی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button