کے الیکٹرک کے ظلم کے خلاف احتجاج

ناظم آباد ، لائنز ایریا ، نارتھ ناظم آباد ، سعدی ٹاؤن ، سرجانی ٹاؤن ، بلدیہ ٹاؤن اور کراچی شہر کے دیگر حصوں میں روزانہ 10 گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔

دوسری جانب  لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے کمرشل علاقے بھی محفوظ نہیں اور بجلی کی تقسیم کار کمپنی روزانہ صنعتی علاقوں میں 12 سے 15 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کرتی ہیں۔

دریں اثناء غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور اوور بلنگ کی وجہ سے مشتعل افراد کی ایک بڑی تعداد نے مظاہرہ کیا اور ناظم آباد میں گول مارکیٹ کے قریب کے الیکٹرک کے دفتر کا محاصرہ کیا۔

اس سے قبل 29 مئی سے انتہائی گرم موسم کی صورتحال کے دوران ، شہر کی واحد بجلی کمپنی ، کے الیکٹرک نے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں 11 گھنٹے تک اضافہ کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اعلان کردہ اور غیر اعلانیہ بجلی کی بندش کے باعث  میٹروپولیس  کے علاقے میں لوگوں کو  سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 11 گھنٹوں تک

ایک طرف تو  لوڈ شیڈنگ  سے پہلے سے متاثرہ علاقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 11 گھنٹوں تک بڑھا دیا گیا جبکہ دوسری جانب  لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ علاقوں میں بھی دن میں چھ گھنٹے بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

کراچی میں کے الیکٹرک کی طویل دورانیہ  اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے تنگ آکر شہری احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے ۔

شہر کے کئی علاقوں میں  بجلی کی جاری لوڈشیڈنگ کے خلاف ایک ساتھ  احتجاج کیا گیا،لوگ  سڑکوں پر گاڑیوں کے سامنے لیٹ گئے،احتجاج میں بچے ،بوڑھے ،مرد  اور خواتین سب نے حصہ لیا ۔

ادھر مجاہد کالونی میں تین دن سے بجلی کی فراہمی بند ہے تو دوسری جانب  شہریوں کو بھاری بھرکم  بجلی کے بلوں کی  ادائیگی  نے پریشانی میں مبتلا کر ر کھا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ  بجلی نہ آنے کے باوجود 30 ،30 ہزار  روپے کے بل کی ادائیگی کہاں سے کریں،ناظم آباد کے رہائشی بھی بجلی کی طویل دورانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کے لیے سڑکوں پر آگئے۔

ناظم آباد کے مکینوں نے سڑک بلاک کردی اور "کے الیکٹرک مردہ باد ” اور ” کے الیکٹرک کی غنڈہ گردی” کے خلاف نعرے لگائے۔ احتجاج کے باعث ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا اور گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں،مظاہرین کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ انہیں بجلی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button