بحریہ ٹاؤن میں پریس کانفرنس

گزشتہ روز سندھ کی قوم پرست تنظیموں کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کراچی میں کی جانے والی کاروائی  پر بحریہ ٹاؤن  انتظامیہ کا موقف لینے کے لیے ان سے رابطے کی کوشش کی جارہی ہے تاہم  کچھ دیرقبل بحریہ ٹاؤن کے رہائشیوں،بلڈرز اور  پراپرٹی ڈیلرز نے پریس کانفرنس  میں  شکوہ کیا۔

پریس کانفرنس میں  بحریہ ٹاؤن کے رہائشیوں،بلڈرز اور  پراپرٹی ڈیلرز  کے ترجمان نے کہا کہ  کہ بحریہ ٹاؤن جس زمین پر ہے  وہاں پہلے ڈاکو اور دہشتگرد پناہ لیتے تھے ،کوئی  ثابت  تو کرے  کہ  کسی دیہی رہائشی کی  ا  یک انچ  زمین  بھی چھینی گئی ہے ۔

ملک ریاض دنیا بھر میں مارکیٹنگ کر کے وہاں سے سرمایہ پاکستان میں لے کر آیا اور ایک اتنا بڑا پراجیکٹ بنایا۔

حکومت سندھ کہاں تھی جب چند مفاد پرستوں نے یہ ڈرامہ رچایا ،ان لوگوں نے کئی دن پہلے سے اس احتجاج کی کال دی ہوئی تھی اور ہزاروں کے حساب سے گاڑیاں پورے سندھ سے احتجاج میں شریک ہوئیں۔

ایسا نہیں تھا کہ یہ کاروائی اندرون سندھ کے کسی  دور دراز علاقے میں ہوئی  جہاں حکومت اور انکے اداروں کاپہنچنا مشکل تھابلکہ  صوبے کے مرکزی شہر میں یہ دہشتگردی کی کاروائ کی گئی۔

جنگ کے مناظر

مظاہرین دن بھر سر عام ڈنڈوں ،بندوقوں، آتشی کیمیکلز اور بارودی مواد کے ساتھ دندناتے پھرتے رہے ،دفتروں کو توڑتے رہے  ،کوئی بچانے نہیں آیا،اس طرح سے جلایا ہے کہ  دیکھنے والوں کو لگتا ہے یہاں کوئی جنگ ہوئی ہے جسکے بعد کے یہ مناظر ہیں ۔

انکا  کہنا تھا کہ ہم  معیشت کا ایک اہم حصہ ہیں ہم  حکومت کو ٹیکس ادا کرتے ہیں تو کیا ہماری حفاظت کی ذمہ داری حکومت کی نہیں تھی۔

ریاستی ادارے کہاں تھے جس وقت ہمارا اتنا نقصان کیا جارہا تھاریاست ماں کی طرح اپنی عوام کی حفاظت کرتی ہے ،ہم خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔

ہمیں آگے  کے لیےاس خطرناک صورتحال  نے تشویش میں مبتلا کردیا ہے کہ اگر خدانخواستہ وہ لوگ کمرشل بلڈنگز کے بجائے گھروں میں گھس کر چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے تو  کیا ہوتا۔

ہماری حکومت سے گزارش ہے کہ ان لوگوں کو اور انکی سرپرستی کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں تاکہ آئندہ کے لیے اس قسم کے حادثات کی روک تھام ہوسکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button