صدر عارف علوی کا علماء سے خطاب

صدر عارف علوی نے آج علماء اور مشائخ کے اعزاز میں ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں تمام علماء اور مشائخ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے مشترکہ جدوجہد اور کوشش کے ساتھ وبا کےاوپر قابو پانے میں حکومت کا ساتھ دیا ہے۔

علماء کی ان کاوشوں سے میرا اس بات پر یقین اور بڑھ جاتا ہے کہ اچھے کاموں کی روشنی ممبر اور محراب سے  ہی پھیلتی ہے اور پھیلتی رہے گی۔

اس وقت اگر ملک کورونا کی وبا پر قابو پانے کے قابل ہوا تو وہ سب سے پہلے تو اللہ کے فضل سے اور اسکے بعد آپ حضرات اور میڈیا کی کوششوں اور تربیت سے اور حکومت نے جو این سی او سی کے ساتھ مل کر بہترین پالیسیاں بنائیں اور اقدامات کیے ان سب کے باعث یہ ممکن ہوا کہ دوسرے کئی ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں صورتحال بہتر رہی اور اور مزید بہتر ہورہی ہے۔

صدر عارف علوی نے علماء کو سراہتے ہوئے کہا کہ علماء کا عوام کے اندر  جو اثر و رسوخ  ہے اس کو استعمال کیے بغیر  کورونا کے پھیلاؤ کو قابو کرنا ناممکن تھا، جسکے لیے وہ بے حد مشکور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ممبر اور محراب وہ ذریعہ ہیں جہاں سے بات جلد اور زیادہ لوگوں تک پہنچتی ہے اور علماء اس کام کوبہترین طریقے سے انجام دے رہے ہیں اور ہمیں ہر قدم پر انکی رہنمائی کی ضرورت رہتی ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل

انہوں نے بتایا کہ دو سال پہلے انہوں اسلامی نظریاتی کونسل سے درخواست کی تھی کہ سرکاری خطبات کی شکل میں ایک باون  عنوانات پر مشتمل کتابچہ علماء کے حوالے کیا جائے جس پر یہ اعتراض آیا کہ  مساجد کے ممبر سرکاری طور پر استعمال نہیں ہوسکتے، تو مین یہ وضاحت دینا چاہتا ہوں کہ ان سرکاری خطبات کو تجویزی نکتہ نظر کے طور پر پیش کیا جارہا ہے ،یہ  لازم و ملزوم نہیں ہیں  ۔

ان خطبات میں بیشتر موضوعات وہ وہیں جو مساجد سے عموماً بیان کیے جاتے ہیں جیسے صفائی ،جھوٹ سچ،بے ایمانی،پانی کی کفایت،پیڑوں کی ضرورت  لیکن کچھ عنوانات وقت کی ضرورت ہوتے ہیں جیسے  کورونا وبا کے پھیلاؤ کے اسباب سے بچنا   اور کورونا ویکسین کی ضرورت وغیرہ  اور ان باتوں کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے ہم آپکے پاس آئے اور آپ سے درخواست کی کہ ان باتوں کو لوگوں تک پہنچائیں اور  آپ لوگوں کی وجہ سے ان پر عمل ہوا اور آج کورونا  کے پھیلاؤ  میں کمی کا ہم مشاہدہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت یہ چاہتی ہے کہ جس طرح کورونا  وبا کے دوران  علماء نے حکومت کی ترجیحات کو عوام تک پہنچایا اسی طرح عام حالات میں بھی علماء  عوام کے سامنے  ان مسائل کی نشاندہی کریں جو کہ پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں  اور ان کو دور کرنے کی طرف رہنمائی کریں جیسے   صحت ،وراثت  اور دیگر موضوعات ہیں جو علماء اور حکومت دونوں کی ذمہ داری بنتے ہیں انکا پرچار کیا جائے۔

آخر میں صدر عارف علوی نے میڈیا کے سامنے وہ تمام نکات پیش کیے جن پر تقریب کے دوران تقاریر میں علماء اور حکومت نے بات کی۔

شرعیت کا تقاضہ

عوام الناس کی جان اور صحت کی حفاظت مقاصد دینیہ  اور شرعیہ میں سے ایک مقصد ہے۔

کورونا ایک وبائی مرض ہے جسکی روک تھام اور علاج معالجے کا اہتمام کرنا  صرف شرعیت کا تقاضہ ہی نہیں بلکہ حکم ہے۔

کورونا سے لاکھوں لقمہ اجل بن چکے ہیں صحت کے ماہرین بھی اسکی روک تھام کے لیے  ویکسین لگوانے پر زور دے رہے ہیں،علماء اور مشائخ بھی صحت کے ماہرین کی رائے کو اہمیت دیتے ہیں۔

کورونا ویکسین کے استعمال کی ترغیب علماء  کرام اور مشائخ عظام کے فرائض منصبی میں سے ہے۔

کورونا ویکسین کو جس قدر زیادہ لگوانے کا اہتمام کیا جائے گا ،اس وبا کی روک تھام اتنی موثر ہوگی اور معاشرتی اور معاشی امور بالخصوص صنعتوں کارخانوں اور مزدور کا کام بطریق احسن جاری رہے گا ۔

پاکستان میں کورونا کی روک تھام کے لیے جو ویکسینز رجسٹر کی گئی ہیں انکے اجزاء ترکیبی پر علماء اور مشائخ نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

ویکسین لگانے پر عوام الناس کو ترغیب دلانے کے لیے علماء و مشائخ مساجد ،خانقاہوں  اور مدارس سے موثر اور مثبت آواز بلند کریں گے ۔

علماء کرام اور مشائخ عظام نے پہلے بھی ویکسین لگوا نے کی تلقین کی ہے خود  بھی ویکسین لگوائی ہے  اور علماء اس جمعہ 4 جون کوبھی ویکسین لگانے کی خصوصی تلقین کریں گے  اور اعلانات کایہ سلسلہ آئندہ خطبات میں بھی جاری رکھیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button