پاکستان میں کینسینو ویکسین کی تیاری

گزشتہ ہفتے دنیا کے متعدد سربراہوں اور نوبل انعامیافتگان نے امریکہ کےصدر جو بائیڈن کو خط لکھ کر کہا تھا کہ کورونا ویکسین پیٹینٹ کے قوانین ختم کردیے جائیں تاکہ کم آمدنی والے ممالک بھی ویکسین بنا کر اپنی عوام کو سستے داموں فراہم کرسکیں ۔

تاہم بدھ کے روز امریکی صدر نے اس مطالبے کی حمایت کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد کوئی بھی ملک اندرونی سطح پر ویکسین کی تیاری کرسکے گا ۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنز سنٹر (این سی او سی) کے سربراہ اسد عمر نے جمعہ کو دعویٰ کیا کہ مقامی طور پر تیار کردہ کینسینو ویکسین رواں ماہ (مئی) کے آخر تک استعمال کے لئے دستیاب ہوجائے گی ۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھتے ہوئے اسد عمر نے بتایا کہ اس مقصد کے لئے گذشتہ ماہ قائم کیے گئے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ پلانٹ میں بلک کینسینو ویکسین کی پہلی کھیپ پر کام جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ خصوصی تربیت یافتہ ٹیم اس پر کام کر رہی ہے، انشاء اللہ کوالٹی کنٹرول کی سخت جانچ پڑتال کے بعد مئی کے آخر تک ویکسین استعمال کے لئے دستیاب ہوجائے گی۔

اس سے قبل 28 اپریل کو قومی ادارہ صحت کے ذرائع نے انکشاف کیا تھا ، پاکستان اگلے ماہ سے مقامی سطح پر چینی کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرے گا، کینسینو بائیو کے ذریعہ تیار کی جانے والی ویکسین مئی کے آغاز میں مقامی طور پر تیار کی جائے گی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button