انسٹاگرام کی طرف سے متعصبانہ اقدام

انسٹاگرام نے ایسے وقت میں صارفین کو "الاقصی” ہیش ٹیگ کے استعمال اور گردش کرنے پر پابندی عائد کردی جب فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت اور اشتعال انگیزی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

مزید برآں حالیہ دنوں میں ہیش ٹیگ کے استعمال کے بعد بہت سارے انسٹاگرام اکاؤنٹ بھی بند کردیئے گئے ہیں مقبوضہ شہر یروشلم میں مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں پر اسرائیلی پیشہ ورانہ فورسز (آئی او ایف) کے وحشیانہ حملے کے نتیجے میں ایک کشیدہ ماحول کی صورتحال دیکھنے میں آرہی ہے ، جہاں ربر کی گولیوں سے درجنوں فلسطینی زخمی ہوگئے۔

ہفتے کے شروع میں فلسطین کی ہلال احمر کی سوسائٹی نے کہا تھا کہ آئی او ایف نے مسجد اقصیٰ کے صحن میں دھاوا بولا ، نمازیوں پر حملہ کیا ، اور مقبوضہ مشرقی یروشلم کے پڑوس میں ناجائز قبضے کے خلاف دھرنےمیں 180 کے قریب شہریوں کو زخمی کردیا۔

مشرقی یروشلم شیخ جراح کے پڑوس میں بڑھتی کشیدگی کے بارے میں متعدد پوسٹوں کے انخلاء اور اکاؤنٹس معطل ہونے کے بعد حقوق انسانی گروپوں اور کارکنوں نے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز انسٹاگرام ، فیس بک اور ٹویٹر فلسطینی آواز کو خاموش کررہے ہیں۔

یروشلم

یروشلم کے پرانے شہر کی دیواروں سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع رہائشی علاقہ شیخ جراح میں فلسطینی خاندانوں کے جبری بے دخلی سے متعلق پوسٹس شیئر کرنے کے بعد سیکڑوں افراد نے اپنے معطل اکاؤنٹس اور خالی اسکرینوں کے پردے شیئر کر دیئے۔

ہم جانتے ہیں کہ کچھ لوگ اسٹوری اپ لوڈ کرنے اور دیکھنے کے معاملات میں تعطل کاسامنا کر رہے ہیں،یہ ایک وسیع و عریض عالمی تکنیکی مسئلہ ہے جس کا کسی خاص عنوان سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ہم ابھی اسے ٹھیک کر رہے ہیں … ہمیں تمام متاثرہ افراد پر افسوس ہے ، خاص طور پر آگاہی پیدا کرنے والوں پر۔

بہت سارے کارکن پلیٹ فارم کے ردعمل سے متفق نہیں ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک منصوبہ ہے،اس جواز سے کوئی معنی نہیں بنتا، یہ صرف ایک بھونڈا عذر ہے۔

Back to top button