اسرائیلی پروپیگنڈہ کی پیپلز پارٹی سہولت کار

وزیر اعظم عمران خان کے قریبی ساتھی زلفی بخاری کا نام لے کر اسرائیلی میڈیا نے پی ٹی آئی حکومت کے خلاف مہم شروع کردی۔

اسرائیلی میڈیا  کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی  برائے اوورسیز پاکستانی زلفی بخاری  وزیر اعظم عمران خان کا پیغام لے کر اسرائیل گئے تھے۔

جس پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے مبینہ دورے پر سوال اٹھا دیا اور کہا کہ  اسرائیل کا اخبار کہ رہا ہے کہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی وہاں دورے پر گئے ،ہمیں اس دورے کی نوعیت سے آگاہ کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ جہاز  کسی دوسرے ملک سے گیا ہے اور وہاں سے اس کے بارے میں معلومات نکلوائی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کی رہنما شیریں رحمان نے بھی زلفی بخاری کے دورے سے متعلق استفسار کیا کہ اگر یہ میٹنگ ہوئی ہے تو ہمیں بتا دیا جائے۔

وزارت خارجہ نے سابق معاون خصوصی زلفی بخاری کے دورہ اسرائیل کی تردید کردی۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایسی تمام رپورٹس  بے بنیاد ہیں۔

مزید کہا گیا کہ اسرائیل کا کوئی دورہ نہیں کیا گیا،18 دسمبر 2020 میں بھی ان رپورٹس کی تردید کی گئی تھی اور زلفی بخاری بھی اس  حالیہ رپورٹ کو مسترد کرچکے ہیں۔

اسرائیل کے حوالے سے پاکستان کے اُصولی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں ہے،پاکستان دو ریاستی حل تک فلسطین کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button