پاکستان میں ای سگریٹ پلانٹ لگانے کا منصوبہ

اسلام آباد : ایک ملٹی نیشنل سگریٹ بنانے والی کمپنی اگلے 12 سے 18 ماہ کے عرصے میں پاکستان میں ای سگریٹ جیسا بگیر آگ سے جلے (این سی اے) مصنوعات شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے ۔ یہ تب ہی ہو سکتا ہے جب ملک میں ایک متوقع ریگولیٹری اور ٹیکسیشن نظام قائم ہو ۔

کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر فلپ مورس (پی ایم پی کے ایل) رومن یز بیک نے بدھ کو صحافیوں کے ایک منتخب گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کے ہم ہارم ٹوبیکو ریڈکشن پروڈکٹ لانچ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ مشینری لگانے کے لیے خاطر خواہ رقم لگا کر اس پلانٹ کو شروع کیا جا سکے بشرطیکہ پاکستان میں مناسب ریگولیٹری نظام ہو ۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے بہت سے حصوں میں بغیر آگ والی متبادل مصنوعات کی اجازت ہے کیونکہ ان پر زیادہ تر وہاں پابندی عائد ہے جہاں ریاستوں کی اجارہ داری ہے ۔ غیر آتش گیر متبادل (این سی اے) تمباکو نوشی کرنے والوں کے لیے ہیں جو سگریٹ نوشی جاری رکھنا چاہتے ہیں یا نیکوٹین استعمال کریں گے ۔

اگر پاکستان میں دھواں سے پاک یا غیر آتش گیر متبادلات کو صیح کنٹرول کیا جاتا ہے تو ، یہ ممکنہ طور پر تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد کو کم کرنے اور تمباکو نوشی سے متعلقہ بیماریوں کی وجہ سے سالانہ اموات کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے ۔

یہ ایک ایسی چیز ہے جو موجودہ تمباکو نوشی کرنے والوں کو سگریٹ نوشی سے منع کرسکتی ہے یا سگریٹ کے متبادل ہو سکتی ہے ، جیسا کے ای۔ سگریٹ یا ایچ ٹی پی جو کہ برطانیہ ، جاپان اور نیوزی لینڈ جیسے ممالک میں کامیابی سے کام کر رہے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button