افغانستان میں امن سب کی خواہش

پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ حافظ طاہر محمود اشرفی کا کہنا ہے کہ بھارت سے افغانستان میں اسلحہ کس مقصد کے تحت لایا جا رہا ہے، دنیا کو  اس پر توجہ دینا ہو گی۔

بھارت کے دنیا بھر کی  دہشت گرد تنظیموں سے تعلقات  سب کو معلوم ہیں، بھارت نے افغانستان کی زمین کو پاکستان  میں دہشتگردی کرنے اور  انتہا پسندی  کے فروغ کیلئے استعمال کیا۔

ہم اُمید کرتے ہیں کہ ہندوستان اب یہ کھیل نہیں کھیل سکے گا۔ہم پُرامن افغانستان کیلئے تمام گروپوں سے بات چیت اور مفاہمت کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔

عالمی اسلامی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل نے بھارت کو دوٹوک اور کھلے انداز میں  بتادیا ہے کہ کشمیر کے مسئلہ پر اسلامی تعاون تنظیم پاکستان کیساتھ کھڑی ہے۔

حافظ طاہر اشرفی  کا یہ بھی کہنا تھاکہ پاکستان نے طالبان اور امریکہ کے مابین مذاکرات کا راستہ استوارکیا، افغانستان میں امن کیلئے پاکستان کی کاوشوں کا سب اعتراف کر رہے ہیں۔

افغانستان کے عہدے داران

 
انہوں نے کہا کہ حکومت افغانستان کے عہدے داران کو ذمہ دارانہ بیانات دینے چاہئیں۔ افغان طالبان پاکستان کے تابع نہیں ہیں بلکہ آزاد او رخود مختار ہیں۔

ریاست پاکستان کی جو پالیسی ہے وہی ہر پاکستانی کی پالیسی ہے۔ پاکستان کی حکومت  کاموقف پاکستانی  عوام کے جذبات کے مطابق ہے۔

پاکستان افغانستان یاکسی بھی ملک میں مداخلت کرتا ہے ، نہ ہی کرے گا اور ہمیں اُمید ہے کہ افغان طالبان جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں اسی پر عمل کریں گے۔

طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان میں بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی ہے۔گزشتہ ماہ  سےتشدد کا ایک بھی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔یہ عمران خان کی پالیسی ہے کہ ملک کی خاطر ہم نے ایک ہونا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کشمیر کے سفیر ہیں اور انڈیا سے تعلقات کشمیر کے مسئلہ کے حل سے متصل ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button