شدید جھڑپوں میں 100 فلسطینی زخمی

مشرقی یروشلم میں رمضان کے پہلے عشرے میں  یہودی کارکنوں ، فلسطینیوں اور اسرائیلی پولیس کے مابین جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ تشدد اس وقت شروع ہوا جب پولیس نے فلسطینیوں اور انتہائی قوم پرست یہودی مظاہرین کو الگ رکھنے کی کوشش کی۔

اسرائیل نے سن 1967 کی مشرق وسطی کی جنگ کے بعد سے ہی مشرقی یروشلم پر قبضہ کیا ہے اور وہ پورے شہر کو اپنا دارالحکومت سمجھتا ہے ، حالانکہ بین الاقوامی برادری کی اکثریت اسے تسلیم نہیں کرتی ہے، فلسطینیوں کا دعویٰ ہے کہ مشرقی یروشلم ایک متوقع آزاد ریاست کا مستقبل کا دارالحکومت ہے۔

دونوں میں بدترین لڑائی جمعرات کی رات کو اس وقت شروع ہوئی جب انتہائی قوم پرست یہودی گروہ کے سیکڑوں یہودی انتہا پسند یروشلم کے پرانے شہر کے دمشق گیٹ کے دروازے کی طرف روانہ ہوئے جہاں فلسطینیوں کی بڑی تعداد جمع تھی۔

دونوں اطراف کے درمیان پتھراؤ اوربوتلیں پھینکی گئیں ، اور پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کی کوشش کے لئے دستی بم ، آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا ۔

مرکز اطلاعات فلسطین نے بتایا کہ کم از کم 100 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں ، جبکہ پولیس کا دعوی ہے کہ 20 اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں، 50 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

یہودیوں کی طرف سے بھی یروشلم میں متعدد حملے ہوئے ہیں ، جس میں ایک واقعہ بھی شامل ہے جہاں یہودی نوجوانوں نے عرب مخالف نعرے لگانے والے ایک عرب ڈرائیور پر حملہ کیا تھا جو ان سے اظہار خیال کرنے کے لئے رک گیا تھا۔

Back to top button