پاکستان کا آئل اینڈ گیس سیکٹر

پاکستان کے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے مالی سال 2020۔2019کے لئے اپنی ‘اسٹیٹ آف دی ریگولیٹڈ پٹرولیم انڈسٹری’ کی رپورٹ جاری کی ہے۔

اس رپورٹ میں تیل کے شعبے کے لئے چیلنجوں اور کارکردگی ، اور قدرتی گیس ، مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) ، مائع قدرتی گیس (ایل این جی) ، اور کمپریسڈ قدرتی گیس (سی این جی) کے شعبوں کو بیان کیا گیا ہے۔

گیس

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قدرتی گیس توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں اہمیت کی حامل ہے۔گزشتہ کچھ عرصے میں قدرتی گیس کی مانگ میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔

سال20-2019 میں گیس کی مقامی پیداوار 10 فیصد کمی سے2،138 ایم ایم سی ایف ڈی رہی۔گیس کی مقامی پیداوار گزشتہ سال2،379 ایم ایم سی ایف ڈی تھی۔

جبکہ گیس کی کھپت 6 فیصد کمی سے 3،714 ایم ایم سی ایف ڈی رہی۔گیس کی کھپت گزشتہ سال 3،969 ایم ایم سی ایف ڈی رہی۔

گیس کی پیداوار اور کھپت میں فرق کو آر ایل این جی سے پورا کیا  گیا۔آر ایل این جی کا قدرتی گیس میں شیئر 27 فیصد سے بڑھ کر 29 فیصد ہوگیا۔

سال2020-2019 میں ایس این جی پی ایل صارفین میں 228 سے  271 تک کا اضافہ ہوا ہے۔ایس این جی پی ایل صارفین کی مجموعی تعداد70 لاکھ ہوگئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایس ایس جی سی ایل صارفین میں95،011 کا اضافہ ہوا۔ایس ایس جی سی ایل صارفین کی مجموعی تعداد31 لاکھ ہوگئی ہے۔

سال 2020-2019 کے اختتام تک  قدرتی گیس صارفین کی تعداد1 کروڑ 12 لاکھ تھی اور اس سال میں قدرتی گیس کا مرکزی صارف توانائی کا شعبہ رہا۔

جس میں قدرتی گیس کی مجموعی کھپت کا 33 فیصد(1،198 ایم ایم سی ایف ڈی) استعمال کیا گیا۔ملکی توانائی میں ایل پی جی کا حصہ 1 فیصد ہے۔

ایل پی جی مارکیٹ کا حجم 1،149،352میٹرک ٹن سالانہ ہے۔

جو کہ گزشتہ سال1،061،448میٹرک ٹن سالانہ کے مقابلے میں 8اعشاریہ28 فیصد زیادہ ہے۔ملک میں 11 ایل پی جی پراڈیوسرز اور 208  ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیاں ہیں۔

حکومت نے پی ایس او اور پی ایل ایل کو ایل این جی کی درآمد کی اجازت دی ہے۔

تیل

سال 20-2019 یں تیل کے شعبے کو کورونا کے سبب غیر معمولی مسائل کا سامنا رہا ۔

پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات 6اعشاریہ77 ملین ٹن اور 8 اعشاریہ 10 ملین ٹن رہیں۔ریفائنریوں کی پیداوار میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کا تناسب 40 فیصد تھا۔

ہائی اسپیڈ ڈیزل کا تناسب 3اعشاریہ79 ملین ٹن کے ساتھ سب سے زیادہ تھا۔توانائی کے شعبے میں پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں واضح کمی ہوئی۔

پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت 43اعشاریہ 5کی کمی سے 1اعشاریہ52 ملین ٹن رہی۔پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت19-2018میں 2اعشاریہ76 ملین ٹن تھی۔

رپورٹ کے مطابق سال20-2019 میں مارکیٹنگ کے شعبے میں پیٹرولیم مصنوعات کے تناسب میں کمی ہوئی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button