پاکستان کی معیشت عروج کا شکار یا زوال کا

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان مستقل جھوٹ کے ساتھ معاشی تباہی کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ مرغیوں ، انڈوں اور بھینسوں کی مارکیٹنگ ملکی معیشت کو بہتر نہیں کرسکتی۔

بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی حکومت نے مردم شماری کے پرانے اعداد و شمار کو فی کس آمدنی زیادہ ظاہر کرنے کے لئے استعمال کیا۔ جب تک ملک میں عمران خان جیسے تجربات ہوں گے ، پاکستان ترقی نہیں کرسکتا۔

عمران خان  کےوعدوں کی یاد دلاتے ہوئے بلاول نےکہاکہ عمران خان نے 90 دن میں قومی معیشت کو ٹھیک کرنے کا دعوی کیا تھا لیکن آج یہ 1011 واں دن ہے اور پھر بھی معاشی بحالی کا کوئی امکان نہیں ہے۔

پی پی پی کے چیئرمین نے کہا کہ عمران خان  نے عوام سے جو بھی وعدے کئے تھے اسے پورا کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک زرعی ملک میں اشیائے خوردونوش کے درآمدی بل میں 53 فیصد کا اضافہ حکومت کی معاشی کارکردگی پر ایک طمانچہ ہے۔

بلاول نے کہا کہ عمران خان کی دیانتداری کا غلط تاثر پیدا ہوا  ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے اشرافیہ دونوں ہاتھوں سے ملک کو لوٹ رہے ہیں۔

ایک دن قبل(اتوار کو) بلاول نے وفاقی حکومت کی معاشی ترقی کے دعوؤں کو مسترد کردیا۔

معاشی بحران یا عروج

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اتوار کے روز وزیر اعظم عمران خان کو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا "معاشی مجرم” قرار دیا۔

بلاول نے کہا کہ ان کا [وزیر اعظم عمران کا] جرم نہ صرف مہنگائی بڑھانا ہے بلکہ اس کے ذمہ دار مافیا کی سرپرستی  کرنابھی ہے۔

چیئرمین پی پی نے کہا کہ دوسروں پر الزامات لگانے والے وزیر اعظم کو خود شناسی پر  بھی  تھوڑاوقت لگاناچاہئے۔

پاکستانی عوام اپنے معاشی جرائم کے لئے اسے کبھی معاف نہیں کرے گا۔

پی پی پی کے سربراہ نے ایک بیان میں کہا ، "جب معاشی بحران دنیا کو پہنچا تب ملک کی معیشت اتنی خراب نہیں تھی جتنی عمران خان کے اقتدار میں آنے کے بعدہو گئی”۔

بلاول نے کہا اگر وزیر اعظم عمران کو نہ روکا گیا تو وہ معاشی بدحالی کی  وہ آگ لگائیں گے جس میں پاکستان  کئی دہائیوں تک جلتا  رہے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان معاشی بربادی کی باقیات چھوڑ کر [سابق وزیر اعظم] شوکت عزیز اور [سابق فوجی حکمران] پرویز مشرف کی طرح ملک چھوڑ دیں گے۔

لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے،عمران خان کو اپنے معاشی جرائم کے لئے عام آدمی سے معافی مانگنا پڑے گی۔

نے کہا کہ وزیر اعظم کی کابینہ سخت شرائط پر بیرون ملک سے بڑے پیمانے پر قرضے وصول کرکے قومی خزانے کو لوٹ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت معاشی ترقی کے بارے میں ‘جھوٹے’ دعوے کرکے لوگوں کے زخموں پر نمک ڈال رہی ہے۔

انہوں نے ریمارکس دیئے ، "حکومت ، جس نے عوام کو مہنگائی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اور جن کی ناک کے نیچے لاکھوں افراد اب  بھی غربت کی لکیر سے نیچے ہیں ، انہیں ایسے جھوٹے دعوے کرتے ہوئے شرم محسوس کرنا چاہئے۔

بلاول کا دعوی

انہوں نے دعوی کیا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے نہ صرف غربت کے تناسب کو 7.6 فیصد کم کیا ہے بلکہ آج صوبے میں فی کس آمدنی ملک میں سب سے زیادہ ہے۔

مزید کہا کہ جب سے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت برسر اقتدار آئی ہے ، اس وقت سے  صوبہ میں غربت کا تناسب 8.9 فیصد اضافے کے بعد 27 فیصد ہوگیا ہے۔

صورتحال اس مقام تک پہنچ چکی ہے  کہ جہاں ملک میں غربت کا تناسب بڑھتا جارہا ہے وہاں عمران خان ریٹائرڈ ملازمین کی پنشنوں پر ٹیکس وصول کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشنوں پر 10 فیصد ٹیکس عائد کرنے کے حکومت کے منصوبے کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے وعدہ کیا کہ میری جماعت ہر محاذ پر وزیراعظم عمران کی عوام دشمن پالیسیوں کا مقابلہ کرتی رہے گی۔

جن لوگوں نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا انھوں نے پوری قوم کو درہم برہم کردیا ہے۔

بلاول نے پیش گوئی کی کہ وزیر اعظم عمران کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں ہے کیونکہ وہ ملک کے معاشی بحران کےذمہ دار ہیں۔

جمعرات کے روز وزیر اعظم نے ایک آن لائن پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے دعوی کیا کہ انکے سیاسی مخالفین اور "مافیا” انکی حکومت کا تختہ پلٹنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ ان کی کامیابی سے خوفزدہ ہیں۔

مزید کہا  کہ مخالفین اپنی سیاسی موت دیکھ رہے ہیں … مافیا میری حکومت کی کامیابی سے خوفزدہ ہیں۔

عمران خان کا بیان

وزیر اعظم نے 2018 کے عام انتخابات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مخالفین نے پیش گوئی کی تھی کہ ان کی پارٹی کو انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑے گا،لیکن ہم نے اپنی کارکردگی کی وجہ سے خیبرپختونخوا میں دوتہائی اکثریت حاصل کرلی اور ہمارے مخالفین قومی سطح پر آئندہ انتخابات میں اسی نتائج سے ڈر رہےہیں۔

وزیر اعظم عمران نے کسی کا نام لئے بغیر کہا کہ مافیا این آر او (کرپشن کیسز میں استثنیٰ)  کے لئے بلیک میل کررہا ہے اور دھمکی دے رہا ہے کہ اگر  این آر او نہ ملا تو وہ ان کی حکومت کا تختہ پلٹ دیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button