پاکستان امن چاہتا ہے مگر انڈیا نہیں : نیٹو رپورٹ

لندن : روم میں نیٹو ڈیفنس کالج کی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان افغانستان میں طالبان کا قبضہ نہیں چاہتا ، طالبان پر زور دیا گیا ہے کے وہ سیاسی طور پر سامنے آئیں لیکن ہندوستان جیسے ملک وہاں کسی جماعت کی بھی عبوری حکومت کے خلاف ہیں ۔

ایک سو چار صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ نیٹو ڈیفنس کالج کی این ڈی سی ریسرچ پیپرس سیریز کا حصہ ہے جو جنگ سے متاثرہ ملک سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے اعلان کے بعد افغانستان سے متعلق مختلف امور پر روشنی ڈالتی ہے ۔

پاکستان اور ہندوستان سے متعلق ابواب بالترتیب سیگفریڈ او ولف اور راہول رائے چوہدری نے لکھے ہیں ، اور برطانیہ کے دفاعی تھنک ٹینکس آئی آئی ایس ایس اور روس کے دفاعی ماہرین نے بھی اس میں حصہ لیا ہے ۔

اس مقالے میں کہا گیا ہے کہ علاقائی طاقتیں اس بات پر متفق ہیں کہ تنازعہ کو سیاسی عمل کے ذریعے حل کیا جانا چاہئے ۔ زیادہ تر اقوام طالبان کے ساتھ کسی نہ کسی طرح اقتدار کی شراکت کی حمایت کرتے ہیں لیکن وہ مکمل طالبان کا قبضہ نہیں چاہتے ہیں ۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اس بات کو قبول کرتا ہے کہ طالبان کا حکومت میں اہم کردار ہوگا ، اسی طرح دیگر سیاسی قوتوں کے ساتھ طالبان کو ۔ روس – اور چین بھی اشرف غنی کی حکومت میں شامل کرنے کی حمایت کرتے ہیں جس میں طالبان اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں ۔

لیکن صرف ہندوستان ایک عبوری حکومت کا مخالف ہے ، اس خوف سے کہ اس سے طالبان کا مکمل قبضہ ہوجائے گا اورپاکستان کے اثر و رسوخ میں اضافہ پیدا ہوجائیگا اس کے ساتھ ہی وہ فوجی تعاون میں غنی انتظامیہ کی طالبان کی پشت پناہی کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button