بھارت کو ایک کے بعد ایک دھچکہ

انڈیامیں کورونا کی شدت اور  ہولناکی  اب بھی برقرار ہے۔کورونا  کے باعث مزید 4 ہزارسے زائد افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔

بھارت میں گزشتہ روز بھی کورونا کے  2 لاکھ سے زائد   کیسز رپورٹ ہوئے ۔

ہندوستان میں پائی جانے والی کورونا وائرس کی قسم خطرناک اور زیادہ تیزی سے پھیلنے والی ہے ،بھارتی کورونا وائرس کی قسم تقریباً 53 ممالک تک پہنچ چکی ہے جن میں برطانیہ  اور امریکہ بھی شامل ہیں۔

بلیک اور وائٹ فنگس کے بعد سرخ فنگس کے کیسز بھی سامنے آنا شروع ہوگئے ۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ  سرخ فنگس پچھلے دونوں سے زیادہ خطرناک ہے۔

بھارت میں ایک ماہ کےدوران بلیک فنگس کے تقریباً  9 ہزار سے زیادہ کیسز  رپورٹ ہوئے ،سات ریاستوں نے بلیک فنگس کو وبائی مرض قرار دے دیا ہے۔

دوسری جانب کورونا سے نبرد آزما بھارت کو پچھلے دنوں ایک  خطرناک طوفان  تاؤتے کا بھی  سامنا کرنا پڑا تھا جس نے اسکی ساحلی پٹی کو شدید نقصان سے دوچار کیا تھا ۔

 بھارت ابھی  تاؤتے طوفان کےنقصانات سے ابھرا نہ تھا کے طوفان یاس نے   اسکی طرف رخ موڑ لیا اور    ایک روز قبل اسکی ریاست اُڑیسہ سے ٹکرا گیا۔

طوفان کے ٹکرانے کی وجہ سے اُڑیسہ اور مغربی بنگال کے علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارشیں ہوئیں  اور جسکی وجہ سے  ان علاقے کی آبادیوں کو شدید نقصان پہنچا۔

طوفان  یاس کی وجہ سے مختلف  حادثات میں  2 افراد کے ہلاک ہونے کی رپورٹ ہوئی جبکہ بنگال کے  3 لاکھ مکانات    طوفان سے متاثر ہوئے۔

مغربی بنگال ،اُڑیسہ اور جھاڑ کنڈ سے  12 لاکھ افراد کو نکالا گیا ، طوفان کے باعث کلکتہ ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن بھی معطل ہوگیا ، ہزاروں افراد ایئر پورٹ پر پھنس گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button