ٹرینیں نہیں، بسیں بھی نہیں

عید کے موقع پر ہمیشہ ٹرانسپورٹرز کی جانب سے  کرایوں میں اضافے کی شکایات موصول ہوتی رہی ہیں ۔لیکن اس بار یہ شکایات اس لیے بھی زیادہ  ہوگئی ہیں کہ اس بار عید کے موقع پر ریلوے کی جانب سے عید اسپیشل ٹرینیں  چلانے سے انکار کردیا گیا ہے۔

اس سال عید الاضحی کے موقع پر عید اسپیشل ٹرینیں نہیں چلائی جارہی ہیں بلکہ روزانہ جو ٹرینیں چلتی ہیں ان میں ایک یا دو  کوچز کے اضافے  کا عندیہ دے دیا گیا ہے۔

عید اسپیشل ٹرینز کی سہولت موجود نہ ہونے کے باعث عید کے موقع  پردوسرے شہروں کوجانے والے مسافر بس اڈوں کا رخ کر رہے ہیں اور  بسوں کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے بسوں کے مالکان  کرائے دو گنےاور تگنے وصول کر رہے ہیں۔

لاہور کا کرایہ جو ریل سے 1500-1600 تھا وہ بسوں کے اوپر اب تقریباً 2000-2250  روپے وصول کیا جارہا ہے۔

بس اڈے مالکان کا کہنا ہے کہ ڈیزل مہنگا ہوگیا ہے  اورپنجاب سے جب بسیں خالی آتی ہیں تو انکو  دوہرا چکر پڑتا ہے جسکی وجہ سے وہ کرایوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پچھلے چند روز کے دوران اوگرا کی سفارش پر  وزیر اعظم کی منظوری کے بعدپیٹرول کی قیمت 5 روپے 40 پیسے فی لیٹر بڑھا دی گئی تھی۔

 حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں واضح اضافہ کیے جانے کے بعد ٹرانسپورٹر حضرات نے بھی ا پنے نرخوں میں اضافہ کردیا ہے۔

کراچی سے سکھر ،لاڑکانہ،شہزادکوٹ،شکارپور اور دیگر شہروں کو جانے والی ٹرانسپورٹ  کے مالکان نےکرایوں میں   500 روپے تک اضافہ کردیا ہے جبکہ  خیبرپختونخواہ اور پنجاب جانی والی پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں1000 سے 1500 روپے تک کا اضافہ کردا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button