داعش سے لڑنے کیلئے کسی کی مدد نہیں چاہیے ، طالبان

دوحہ : قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے سابق ترجمان اور اقوام متحدہ میں افغانستان کے موجودہ نامزد سفیر سہیل شاہین نے کہا ہے کہ دوحہ مذاکرات میں افغان وزیرخارجہ نے امریکی وفد کو افغان سرزمین کسی ملک پر حملے کیلئے استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کرا دی ہے ۔

یہاں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغان طالبان اور امریکی وفد کے درمیان دو روزہ مذاکرات ہوئے ہیں جبکہ یہ مذاکرات 9 اور 10 اکتوبر کو بھی ہوئے تھے ۔

سہیں شاہین نے بیان میں مزید کہا ہے کہ امریکی وفد نے افغانستا ن کو امداد فراہم کرنے کی بات کی ہے اور ہم امداد کے فیصلے کا خیرمقدم بھی کرتے ہیں ، مگر امداد کو سیاسی معاملات سے منسلک نہیں کیا جانا چاہیے ۔

اس کے علاوہ اُدھر طالبان رہنما سہیل شاہین نے امریکی میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ دوحہ مذاکرات میں افغان وزیرخارجہ نے امریکی وفد کو افغان سرزمین کسی ملک پر حملے کیلئے استعمال نہ ہونے کی اچھے سے یقین دہانی کرا دی ہے ۔

لہذا سہیل شاہین نے داعش کے خلاف کارروائیوں کیلئے امریکی تعاون کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ داعش کے خلاف کارروائی کیلئے کسی ملک کی مدد کی ضرورت نہیں ہے ، ہم خود دہشت گرد حملوں کا مقابلہ کرنے کی بہت اچھی صلاحیت رکھتے ہیں ۔

اور دوسری جانب ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نیڈ پرائس نے ایک بیان جاری کیا ہے ۔ ترجمان کے مطابق دوحہ میں طالبان کے ساتھ دوروزہ مذاکرات واضح اور پیشہ ورانہ تھے ، مگر طالبان کو ان کے بیانات کے بجائے اقدامات سے جانچا جائے گا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button