نواز شریف کی سزا ئیں بحال ہونے پر رد عمل

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر   خوشی کا اظہار کرتے ہوئے   بیان جاری کیا کہ   یہ مقدمہ ایون فیلڈ اپرٹمنٹس سے متعلق ہے جس میں نواز شریف ابھی بھی مقیم ہیں۔

ان اپرٹمنٹس کا تذکرہ سب سے پہلے 2016 میں جب پانامہ اسکینڈل منظر عام پر آیا تھا،ااس وقت ہمارے سامنے آیا اور 2017 میں نواز شریف ڈسکوالیفائی ہوئے۔

یہ مقدمہ  احتساب عدالت میں 9 مہینے چلا اور نواز شریف نے اپنی پراپرٹیوں کے بارے میں مسلسل جھوٹ سے کام لیا ہے اور مریم نواز نے جو حلف نامہ جمع کرایا وہ بھی جعلی تھا۔

یہ تمام پراپرٹی نواز شریف کی ملکیت ہیں اور ایون  فیلڈ مقدمے میں احتساب عدالت نے نواز شریف کو  10 سال ،مریم نواز کو سات سال اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو 1 سال کی قید کی سزا سنائی تھی تاہم نواز شریف ملک  سے فرار ہوگئے تھے اور اب سزا ؤں کی بحالی کا فیصلہ عوام اور تحریک انصاف  کے موقف کی فتح ہے۔

نواز شریف پر جرمانہ

انہوں نے  مشورہ دیا کہ نواز شریف خاندان کو پاکستان کے عوام سے لوٹا ہوا پیسہ واپس کرنا چاہیے،نواز شریف کے اوپر جرمانہ بھی ہے جو وہ ادا کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

فواد چوہدری نے مزید کہا کہ مریم ابھی یہیں ہیں  ،اب انکی اپیل میرٹ کے اوپر چلے گی اورپاکستان کی  عوام  انصاف ہوتا ہوا دیکھ سکے گی اور عوام کو یہ نظارہ بھی دیکھنے کو ملے گا کہ  بڑے بڑے حکمران جیلوں کے پیچھے ہوں گے۔

دوسری جانب رانا ثناءاللہ نے  9 صفحات پر مشتمل فیصلے میں سے صرف ایک بات کو  قابل توجہ سمجھا  اور  کہا کہ ہم اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں کیونکہ اپیل عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کی گئی ہے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ  عدالت نے نواز شریف کو حق دیا ہے کہ وہ جب بھی واپس آنا چاہیں  درخواست دے سکتے ہیں ،اپیل واپس بحال ہوجائے گی اور فیصلہ میرٹ پر ہوگا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button