دنیا بھر میں مسلمان غیر محفوظ

ایک روز قبل کینیڈا میں اسلام دشمنی کے تحت ایک پورے کے پورے خاندان کو بڑی بے رحمی کو ساتھ قتل کردیا گیا،جسکے بعد  پاکستان ،چین اور ترکی سمیت کئی ممالک کے سربراہان نے اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا۔

تاہم  گزشتہ روز پھر سے  ایک اسلام دشمنی کا واقعہ رونما ہوا   جس میں برطانیہ میں رہائشی ایک پاکستانی نژاد خاندان کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا۔

برمنگھم میں پاکستانی مسلمان خاندان کو  دو برطانوی نوجوانوں نے گالیاں اور  جان سے مارنے  کی دھمکیاں دیں،مسلمان خاندان کی شکایت پر پولیس نے دونوں نوجوانوں کو شناخت کر کے گرفتار کرلیا۔

ان واقعات کو اسلامو فوبیا سے جوڑنے کی وجہ یہ ہے  کہ مسلمانوں کے ساتھ دہشتگردی کے صرف یہ دو واقعات نہیں ،الجزیرہ میں رپورٹ کی گئے تحقیق بتاتی ہے کہ  برطانیہ،کینیڈا اور امریکہ سمیت کئی ممالک میں مسلمانوں کے  خلاف حملے بڑھ چکے ہیں۔

الجزیرہ نے 2016 سے لے کر2019 تک سات واقعات رپورٹ کیے جبکہ اقوام متحدہ کے سروے سے معلوم ہوا کہ 2018اور 2019 میں یورپ کے 10 فیصد لوگ مسلمانوں کے خلاف منفی جذبات رکھتے تھے۔

2017 کے سروے سے پتا چلا کہ 30 فیصد امریکی مسلمانوں  کو برا سمجھتے تھے،ترک خبر رساں ایجنسی اندولو کے  مطابق 2020 میں فرانس میں مسلمانوں  پر حملوں میں 53  فیصد اضافہ ہوا ہے۔

چار سال قبل کینیڈا کے علاقے کیوبک میں  ایک سفید انتہا پسند نے مسجد میں  نمازیوں پر فائرنگ کر دی تھی ،جسکے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

سال 2019 نے مسجد میں حملے کے نتیجے میں  50 افراد جاں بحق ہوئے تھے،2013 میں برمنگھم میں ایک مسلمان  کو مسجد کے باہر چھریوں  کے وار کر کے قتل کیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button