ماؤنٹ ایوریسٹ کوہ پیماں کورونا کا شکار

کورونا وائرس کی ہلاکت خیزیوں نے دنیا میں کہرام مچا رکھا ہے یہاں تک کہ دنیا کے بلند ترین پہاڑ کو بھی کورونا وائرس کی پہنچ سے  نہیں بچایا جاسکا ہے، نیپال میں ماؤنٹ ایورسٹ کے جنوب میں بیس کیمپ میں وائرس سے ایک کوہ پیماں کے متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں ۔

عالمی  خبر رساں ادارے کے مطابق  ماؤنٹ ایورسٹ میں بیس کیمپ میں موجود ایک کوہ پیماں کو کوویڈ 19 کے علاج کے سلسلے میں کٹھمنڈو اسپتال میں لایا  گیا جہاں اس کا علاج کیا جارہا ہےاور  اس وجہ سے بیس کیمپ میں موجود ان کی ٹیم کو قرنطینہ میں بھیج دیا گیا ہے۔

متاثرہ کوہ پیما ناروے کا ہے ، جس نے کہا ہے کہ اس کا خیال ہے کہ بیس کیمپ کا سفر کرتے ہوئے وہ وائرس کا شکار ہوا ہوگا، دیگر اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ تین کوہ پیما ؤں کی انفکشن زدہ ہونے کی امید ہے۔ تاہم نیپالی وزارت سیاحت نے ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے انھیں "افواہیں” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی تحقیقات کی جارہی ہیں، ایک حیرت انگیز انکشاف کرتے ہوئے وزارت نے کہا کہ اس نے 21 اپریل تک ماؤنٹ ایورسٹ پر چڑھنے کے 373 اجازت نامے جاری کردیئے تھے ۔

کورونا وائرس وبائی بیماری کے پھیلنے کے بعد سے نیپال میں تقریبا 28 285،000 انفیکشن رجسٹرڈ ہوچکے ہیں ، یہ ملک تقریبا 30 ملین آبادی والا ملک ہے، کووڈ 19 سے نیپال میں 3،000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں تاہم ہمالیہ ریاست میں جانچ کی گنجائش کم ہونے کی وجہ سے غیر رپورٹ شدہ کیسز کی تعداد بہت زیادہ ہونے کا امکان ہے۔

مارچ کے وسط میں کھٹمنڈو میں حکومت نے داخلے پر پابندی کو آسان کردیا تھا تب سے سیاحوں کو صرف ایک ویکسینیشن سرٹیفکیٹ یا منفی پی سی آر ٹیسٹ پیش کرنے کی ضرورت ہے جو تین دن سے زیادہ پرانا نہیں ہو ، اگر نیپالی دارالحکومت کے ہوائی اڈے پر ہونے والا ایک اور ٹیسٹ بھی منفی ہو تو زائرین ملک میں آزادانہ طور پر داخل ہوسکتے ہیں ۔

Back to top button