مودی جاسوس نمبر ون

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق  ایک طرف تو نواز شریف عمران خان کی جاسوسی کروا رہا تھا تو  دوسری جانب مودی راہول  گاندھی کی جاسوسی کروا رہا تھا۔رپورٹ کے مطابق مودی سرکار نے بھی اسرائیلی ہیکنگ سافٹ ویئر کا خوب استعمال کیا۔

کانگریس رہنما راہول گاندھی سمیت مخالفین کی جاسوسی کی جاتی رہی۔نچلی  ذات کے لیے آواز اُٹھانے  والوں کے فونز بھی ہیک کروائے گئے۔

اسٹوڈینٹ لیڈر عمر خالد سمیت کئی افراد کو اسی ہیکنگ کے ذریعے گرفتار بھی کیا گیا۔ہزار سے زیادہ بھارتی نمبرز  ایسے تھے جنکو جاسوسی کے لیے بطور ہدف چنا گیاتھا۔

ان میں کشمیری علیحدگی پسند رہنما،پاکستانی سفارت کار،چینی صحافی،سکھ سماجی کارکنان اور کاروباری افراد شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق بڑے بھارتی میڈیا  اداروں،دی ہندو،انڈین ایکسپریس،انڈیا ٹوڈے اور دیگر کے صحافی بھی جاسوسی کا نشانہ بنے۔

وزیر اطلاعات فواد چوہدری کہتے ہیں کہ بھارتی حکومت اپنے ہی صحافیوں، سیاسی مخالفین اور سیاست دانوں کی جاسوسی کر رہی ہے اور اس کے لیے اسرائیلی سافٹ ویئر استعمال کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مودی کی پالیسیاں بھارت اور پورے خطے کو شدت پسندی کی طرف لے جا رہی ہیں ۔مودی کی جاسوسیوں کی مزید رپورٹ آنا باقی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button