موبائل اور کار ، ٹیکس بے شمار

گاڑیوں کے شوقین افراد کے لیے حکومت کا بڑا اعلان سامنے آگیا۔

وفاقی وزیر صنعت و پیداوار  خسرو بختیار کہتے ہیں کہ  حکومت نے گاڑیوں  کی قیمتوں پر فیڈرل ایکسائز  اور کسٹم ڈیوٹی ختم کردی ہے اور چھوٹی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس بھی ختم کردیا ہے۔

حکومت ایک نئی پالیسی”آٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ  پالیسی "لے کر آئی ہے۔اس پالیسی کے تحت آٹو سیکٹر میں 3 لاکھ نئی نوکریاں پیدا ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ اب 20 فیصد ڈاؤن پیمنٹ پر گاڑی ملے گی، لوکل چھوٹی گاڑیاں 1لاکھ روپے تک سستی ہوں گی،1000سی سی گاڑی تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے کم قیمت میں ملے گی،نئی قیمتوں کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

پاکستان میں آٹوسیکٹر 1200 ارب کا ہے اور ساڑھے300 ارب یہ ٹیکس دیتا ہے ،لہذا اس پر ریلیف دینے سے ملک کی معاشی صورتحال میں بہتری آئے گی۔

موبائل فونز کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی

دوسری جانب حکومت نے موبائل فونز کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کردی ہے ۔30 ڈالر سے لے کر 500 ڈالر تک کے سیٹ پر فی سیٹ ڈیوٹی لگادی گئی ہے ۔

تیس30 ڈالر تک کےموبائل سیٹ پر 300 روپے اور100 ڈالر تک کے موبائل فون پر 3000 روپے تک کی ڈیوٹی عائد کر دی گئی ہے۔

جبکہ 500 ڈالر  سے زائد قیمت کے موبائل فونز کی قیمت پر 22000روپے ڈیوٹی ادا کرنی ہوگی۔

موبائل فونز کی قیمتوں میں  یقینی اضافے پر شہری کڑی تنقید کر رہے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ کام کووڈ کی وجہ سے ویسے ہی  کم ہے اور حکومت نے 17 پرسینٹ ٹیکس لگا کر مسائل میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

شہریوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کیا یہی وہ ریلیف ہے جسکا وعدہ کیا گیا تھا۔حکومت کو سوچنا چاہیے کہ اگر 3 لاکھ روپے والا سیٹ  3 لاکھ 10 ہزار کا ہوجائے گا تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن اگر 13000 والا سیٹ 16000 ہزار کا ہوجائے کا تو یہ  عام عوام کے لیے مشکل کا سبب ہوگا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button