مریم نواز کا عام سا بیان بھاری پڑ گیا

ایک روز قبل  دیے جانے والے مریم نواز کے ایک عام سے بیان نے سیاسی حلقوں سے  عدالت کے ایوانوں تک ہلچل مچادی۔

پریس کانفرنس  میں صحافی نے مریم نواز سے کئی بار پوچھے جانے والا سوال دہرایا کہ "محترمہ نواز شریف کب واپس آئیں گے ؟”جس پر مریم نواز نے بڑے ہی ٹھوس انداز میں جواب دیا کہ

آپ مجھے یہ  گارنٹی دیں کہ  نواز شریف واپس آئیں گے توانکو انصاف ملے گا اور انکی زندگی کو خطرہ نہیں ہوگااوراِن قاتلوں کے ہاتھ میں انکی زندگی نہیں ہوگی  تو میں ا نکو شام کی فلائٹ سے واپس بلاتی ہوں”۔

مریم نواز کے  نواز شریف کی سیکیورٹی کی ضمانت سے متعلق بیان پر حکومت نے بڑی پیشکش کردی  اور کہا کہ نواز شریف واپس تو آئیں انہیں  ہر قسم کی سیکیورٹی دیں گے،وفاقی وزیر داخلہ نے نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں کہا کہ نواز شریف کو جیل میں بھر پور سیکیورٹی دی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر نواز شریف گھر کو جیل بنانے کا کہیں گے تو انکی یہ خواہش بھی پوری کردی جائے گی لہذا انہیں اب آجانا چاہیے کیونکہ کل جو انکی بیٹی نے بیان دیا ہے تو اس سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ وہ بیمار نہیں ہیں۔

دوسری جانب وزیر مملکت  فرخ حبیب کہتے ہیں کہ مریم نواز کا بیان اعتراف جرم کے برابر ہے ،انہوں نے  قبول کیا کہ ہم جھوٹ بول کر ،پورے نظام کو دھوکہ دے کر،فراڈ کرکے،بیماری کابہانہ بنا کر نواز شریف کو باہر لے گئے ۔

تازہ تصاویر

فرخ حبیب نے نواز شریف کی منظر عام پر آئی ہوئی تازہ تصاویر پر طنز کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہاں جاکر نواز شریف نے علاج تو کرایا نہیں بلکہ وہاں تو وہ پولو میچ دیکھتے نظر آرہے ہیں۔

معاون خصوصی بابر اعوان نے بھی لب کشائی کی  اور کہا کہ سچائی سامنے آگئی کہ نواز شریف  بیمار نہیں ہیں اور وہ قانون اور جو مقدمہ بازی ان کے خلاف چل رہی تھی صرف  اس کی چارہ جوئی  سے بھاگ رہے ہیں،انکی صاحب زادی نے اعتراف جرم کیا ہے کہ میرے ابّا قوم کے ساتھ غلط بیانی کرتے رہے ہیں۔

نواز شریف  کے لیے اب لندن میں رہنا  مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہوگیا ہے،بابر اعوان کا مزید کہنا تھا کہ شہباز شریف نے اپنے بھائی کی ضمانت دی تھی لہذا وہ اب نواز شریف کو واپس لائیں ورنہ وہ بھی صادق اور امین نہیں رہیں گے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button