محمود قریشی کا مسئلہ کشمیر پر دو ٹوک انداز

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت  ختم کرنا یکطرفہ اقدام تھا،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مودی سرکار کو کھلا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ ہمت ہے تو بھارت 5 اگست 2019 کے اقدامات پر کشمیر میں  آزادانہ ریفرنڈم کراکر دیکھ لے،کشمیریوں کی رائے سامنے آجائے گی۔

انہوں نے صاف  واضح کر دیا کہ اگر دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے  ریفرنڈم میں بھارتی اقدامات مسترد کردیے  تو مودی سرکار کو اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ مودی کا خیال تھا کہ 5 اگست کے اقدامات سے  بھارت کو پزیرائی ملے گی مگر ایسا نہیں ہوا عام کشمیریوں سمیت  اقتدار میں شریک رہنے والوں نے بھی بھارتی اقدامات  کو یکسر مسترد کردیا۔

 شاہ محمود قریشی نے ایک نجی نیوز چینل کو بتایا کہ بھارتی وزیر خارجہ نے افغان طالبان سے ملاقات کی کوشش کی لیکن افغان طالبان نے انکار کردیا۔

طالبان سے ملاقات

جے شنکر صاحب دو مرتبہ دوحہ گئے ہیں انکی وہاں افغان حکام سے ملاقات ہوئی ہو گی لیکن میری اطلاع کے مطابق کوشش کے باوجود ابھی تک انکی طالبان سے ملاقات نہیں ہوسکی ہے ،سوچنے والی بات یہ ہے کہ وہ اب طالبان سے ملنے کی خواہش کیوں رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم امن کے شراکت دار ہوسکتے ہیں کسی جنگ کے نہیں۔

افغانستان کی صورت حال پر شاہ محمود قریشی نےتشویش کا اظہار کیا  اور بولے  کہ ہمسایہ ہونے کے ناطے  افغانستان میں امن اور استحکام کی کوششیں جاری رکھیں گے لیکن کسی تنازع کا حصہ نہیں بنیں گے۔

وہاں کی موجودہ صورتحال سے خود افغان صدر مطمئن نہیں ،مذاکرات کیسے کرنے ہیں افغانستان میں اس پر بھی اتفاق نہیں ہے ۔غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان سے  مذاکرات کا تعطل باعث تشویش ہوگا۔

مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی  کہنا  ہے کہ  بھارت طالبان سے بات کرسکتا ہے تو پاکستان سے کیوں نہیں،انہوں نے نریندر مودی کو مشورہ دیا کہ پاکستان سے بات کریں تاکہ مسئلہ کشمیر کا کوئی حل نکلے اور خطے میں امن آسکے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button