میڈ اِن پاکستان ویکسین لانچ کردی گئی

قومی ادارہ صحت نے ایک ہفتے قبل چین کی کینسو بائیو کی مدد سے "پاک ویک” پاکستانی کووڈ 19 ویکسین  پاکستان میں کامیابی سے تیار کرنے کا اعلان کیا تھا  تاہم پاکستان نے منگل کے روز (آج) مقامی تیارکردہ کوویڈ 19 ویکسین "پاک ویک” کی رونمائی کی  تقریب  کا انعقاد کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے سربراہ اسد عمر نے  کورونا وبا سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ صرف پاکستان کے لیے یہ ایک چیلنچ نہیں تھا  بلکہ پوری دنیا کے لیے چیلنج تھا  تو جس طرح ہم نے اس  صورتحال میں ہر چیلنج کا بہترین طریقے سے مقابلہ کیا اسی طرح    باقی مشکل ترین چیلنجوں سے بھی  ہم   مقابلہ کریں گے اور سرخرو ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ خام مال کے ذریعہ ویکسین تیار کرنا آسان کام نہیں ہے کیونکہ  اسکو فارمولیٹ کیا جاتا ہے اور یہ بہت تکنیکی ،نازک اور ایسا مرحلہ ہے  جس میں مطلوبہ معیارکو برقرار رکھنے کے لیے بہت ساری  مہارت اور تندہی کی ضرورت ہوتی  ہے۔

پاکستان میں کوویڈ ویکسین کی پیداوار

اسد عمر نے مزید کہا کہ ملک کو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ  اینڈ سائنسز (این آئی ایچ) کے عملے کی کاوشوں پر فخر ہے، انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ آنے والے دنوں میں پاکستان میں کوویڈ ویکسین کی مکمل پیداوار شروع کردی جائے گی۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے  رونمائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آج کےدن کو پاکستان کے لئے اہم قرار دیا۔

 انہوں نے کہا کہ صرف وہ قومیں جو اپنے علم میں ترقی پر توجہ دیتی ہیں  انکے اندر یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ  اس علم کی روشنی کو ٹیکنالوجی کی پیشرفت کے ساتھ ملا کر   دریافتیں کریں ، فیصل سلطان نے مزید کہا کہ آج کا کارنامہ اسی کڑی کا ایک حصہ تھا۔

ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ پوری قوم کواین آئی ایچ کی  اس ٹیم پر فخر ہے جس نے ویکسین تیار کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وبائی مرض صرف پاکستان کے لئے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے ایک چیلنج تھا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ شکر ہے کہ پاکستان کے حالات اتنے سنگین نہیں ہوئے جتنا دنیا کے بیشتر حصوں میں ہوئے۔

فیصل سلطان نے مزید کہا کہ این سی او سی نے پاکستان میں وبائی مرض  سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے موجودہ اسپتالوں میں فوری طور پر کچھ تبدیلیاں لانے کے لئے کوششیں کی گئیں۔این ڈی ایم اے کے ذریعے ایک ایمرجنسی پروگرام کے تحت کورونا وبا کے دوران پورے ملک میں 2800 آکسیجن بیڈز کا اضافہ کیا گیا۔

وبائی مرض اور حکومتی اقدامات

معاون خصوصی کے مطابق وبائی مرض کے علاوہ صحت اور تعلیم  کی ترقی پر بھی حکومت کی بنیادی توجہ ہے،انہوں نے کہا کہ”اعلی تعلیم کے بجٹ کو صرف دو سالوں میں دوگنا کردیا گیا ہے، جبکہ صحت کے لئے بجٹ تین گنا کردیا گیاہے،پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ پی ایس ڈی پی میں شامل کیا گیا ہے”۔

وزیر صحت نے مزید کہا کہ”پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا   صحت کا منصوبہ وفاقی  سطح پر ہم نے کوویڈ ریسپونس پروگرام کی شکل میں اس سال شامل کیا ہے،ہم نے صرف چند ہی مہینوں میں اس ملک میں ایک بہت بڑا‘ انقلاب ‘دیکھا ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے”۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم نے اپنےدوست ملک چین  کو کوویڈ ۔19 چیلنج پر قابو پانے کی جنگ  میں مدد کے لیے ہمارے قریب تر پایا ہے۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت نے شاعر علامہ اقبال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اقبال  ایک صدی پہلے جان چکے تھے کہ پاکستان ایک عظیم ملک بنے گا جبھی انہوں نے کہا تھا کہ مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ۔

واضح رہے کہ  قومی ادارہ صحت کے مطابق "پاک ویک”لانچنگ کے بعد ای پی آئی کے حوالے کردی جائے گی،ای پی آئی پاک ویک ویکسین   وفاق اور وفاق پھر صوبوں کے حوالے کرے گا۔

Back to top button