لادی گینگ کا سرغنہ گرفتار

ڈیرہ غازی خان میں جاری آپریشن میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں نے لادی گینگ کے آٹھ ٹھکانے اور ان کے سرغنہ خدا بخش لادی کی پناہ گاہیں مسمار کردیں۔

وزیر اعظم عمران خان کے حکم پر کالعدم تنظیم کے لادی گینگ کے خلاف قبائلی علاقے کوہ سلیمان میں آپریشن کا آغاز کردیا گیا ۔ اس مقصد کے لئے رینجرز ، بارڈر ملٹری پولیس اور پنجاب پولیس کی بھاری نفری قبائلی علاقوں میں  پہنچ گئی۔

مشترکہ آپریشن  گزشتہ روز بھی جاری رہا جس میں پانچ بکتر بند گاڑیاں ، رینجرز ، پولیس اور سی ٹی ڈی ، بی ایم پی ، بلوچ لیویز فورس کے 500 سے زائد اہلکار حصہ لے رہے ہیں ۔

جمعہ کے روز کارروائی میں سکیورٹی فورسز نے لادی گینگ کے ٹھکانے اور سرغنہ خدا بخش لادی کے گھر  کوآگ لگادی ۔

فورسز نے لادی گینگ کے سہولت  کار بننے کے الزام میں متعدد افراد کو حراست میں لیا اور پوچھ گچھ کی اور لادی گینگ گے سرغنہ اللہ بخش کو بھی گرفتار کرلیا ۔

ذرائع نے بتایا  ہے کہ لادی گینگ کے سرگرم کارندے کل رات موٹرسائیکلوں پر اسلحہ لے کر فرار ہوگئے اور ایک محفوظ جگہ منتقل ہوگئے ہیں ۔

آپریشن کی کڑی نگرانی

مفرور افراد کی گرفتاری کے لئے فورسز ہیلی کاپٹروں کی مددسے فضائی نگرانی اور تلاش کر رہی ہیں۔

ریجنل پولیس آفیسر کیپٹن (ر) محمد فیصل رانا جو  آپریشن کی نگرانی کر رہے تھے انکا کہنا تھا کہ "پولیس اور پاک آرمی اس معاشرے کے دشمنوں کے خلاف رینجرز کے ساتھ کھڑی ہیں۔ ہم اس آپریشن کی کامیابی کے لئے فورسز کی مدد کر رہے ہیں۔ آئی جی پنجاب انعام غنی بھی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں”۔

انہوں نے مزید بتایا کہ محمد جمیل ممدانی ، جو لادی گینگ کا ایک کارکن تھا ، نے ایریا مجسٹریٹ کی عدالت میں سرینڈر کیا اور اسے گرفتار کرلیا گیا ہے ۔

سیمنٹ فیکٹری میں مزدوری کے معاہدے سے انکار کرنے کے بعد محمد لادی نامی ایک شخص نے  دو دہائیوں  قبل لادی گینگ  کی بنیاد رکھی ، اس نے  فیکٹری کے کارکنوں کو اغوا کیا اور فیکٹری کی سہولیات کو نقصان پہنچایا۔

تاہم پولیس نے مبینہ طور پر اس کو علاقے کے جانی قبیلے کے لوگوں کی اطلاع پر ایک انکاؤنٹر میں ہلاک کردیا تھا۔

جس کی وجہ سے لادی اور جانی قبیلوں کے مابین دشمنی شروع ہوگئی اور اس نے اب تک 24 سے زیادہ افراد کی جانیں لی ہیں۔ لادیز کے خلاف اب تک کم از کم 38 مقدمات درج ہیں۔

دریں اثنا   کچھ دنوں قبل جانی گینگ کے  اعلی کارکن ہارون کی موت کا بدلہ لینے کے  لیے لادی گینگ نے رمضان جانی  کو مبینہ طور پر اغواکیا  تھا جس کے بعد ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ہارون کے اعضاء کو کاٹ دیا گیا تھا۔

انہوں نے علاقے میں دہشت پھیلانے کے لئے اس قتل کی ویڈیو  کو وائرل  بھی کردیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button