قندوز لڑائی میں شدت 28 افراد ہلاک

کابل : افغانستان کے شمالی صوبے قندوز میں شدید لڑائی میں اس ہفتے کم از کم 28 شہری ہلاک اور 290 زخمی ہوئے ہیں ، اسپتال حکام کے مطابق ، غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد جنگ زدہ ملک میں تنازعہ بڑھ رہا ہے ۔

قندوز کے صوبائی اسپتال کے سربراہ احسان اللہ فضلی نے بتایا کہ گذشتہ تین دنوں میں 28 لاشیں اور 290 زخمی شہریوں کو دو مقامی اسپتالوں میں پہنچایا گیا ۔ انہوں نے غیر ملکی میڈیا کو رپورٹ کیا کہ ، قندوز شہر میں ابھی بھی جنگ جاری ہے اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا ۔

افغانستان کے چاروں اطراف لڑائی بڑھ گئی ہے لیکن خاص طور پر شمال میں جہاں حالیہ دنوں میں طالبان نے اپنے جنوبی گڑھ سے آگے بڑھتے ہوئے کافی علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے ۔

افغان صدر اشرف غنی اپنے سابق حریف اور اعلی افغان امن عہدیدار عبد اللہ عبد اللہ کے ہمراہ جمعرات کو واشنگٹن پہنچے جہاں انہوں نے امریکی صدر جو بائیڈن سے آج امریکی فوجیوں کی واپسی کے بارے میں تبادلہ خیال کرنا تھا ۔

دریں اثنا ، پولینڈ جون کے آخر میں افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلا لے گا ، صدر آندرج دودا نے جمعرات کے روز کہا کہ ، ہم اب افغانستان میں اپنی دو دہائی کی موجودگی کو ختم کردیں گے ۔ افغانستان کے لئے اقوام متحدہ کے مندوب نے کہا کہ اس ہفتے طالبان نے 370 میں سے 50 اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے ۔

طالبان نے حالیہ برسوں میں دو بار مختصر طور پر اس شہر پر قبضہ کیا ہے – لیکن اب انہوں نے آس پاس کے اضلاع اور تاجکستان کے ساتھ واقع مرکزی سرحد پر بھی قبضہ کرلیا ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button