خورشید شاہ کی ضمانت نہ ہوسکی

سندھ ہائیکورٹ نے پیر کے روز پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کی آمدن سے زیادہ اثاثہ جات رکھنے کے مقدمے میں  دائر درخواست ضمانت کی سماعت  پرفیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

دو رکنی بینچ جسٹس شمس الدین عباسی اور جسٹس امجد علی سہیٹو ، خورشیدشاہ کی گرفتاری کے خلاف درخواست کی سماعت کررہا تھا۔

سماعت کے آغاز پر ، خورشید شاہ کی نمائندگی کرنے والے وکیل ، ایڈووکیٹ مخدوم علی خان نے ضمانت کی درخواست پر دلائل دیئے۔

انہوں نے آگاہ کیا کہ 44 میں سے صرف 3 گواہوں نے اپنے بیانات قلمبند کروائے ہیں اور ابھی تک خورشید کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا ہے۔

وکیل نے موقف اختیار کیا کہ انہیں خدشہ ہے کہ خورشید کے خلاف مقدمہ طویل چلےگا لہذا انہیں ضمانت پر رہا کیا جانا چاہئے۔

قومی احتساب بیورو (نیب) کےپراسیکیوٹر نے موقف برقرار رکھا کہ وہ وقت کے ساتھ خورشید  شاہ کے خلاف ریفرنس کی پیروی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 انہوں نے دعویٰ کیا کہ نیب نے کبھی بھی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست نہیں کی ، انہوں نے مزید کہا کہ تاخیر کے ہتھکنڈےہمارے بجائے دفاعی استعمال کررہے ہیں۔

پراسیکیوٹر نے آگاہ کیا کہ ملزم نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر امراض (این آئی سی وی ڈی) میں داخل ہوا ، جہاں نیب حکام کو داخلے کی اجازت نہیں تھی جبکہ  اضافی ملاقاتیں کی جارہی تھیں۔

جیل منتقل کرنے کی درخواست

اس پر جسٹس ساہتو نے استفسار کیا کہ کیا احتساب عدالت کو اس معاملے سے آگاہ کیا گیا ہے اور این آئی سی وی ڈی سے ملزم کو جیل منتقل کرنے کی درخواست کی ہے؟ عدالت نے ریمارکس دیےکہ ملزم کو 20 ماہ قید رکھنے کے بعد بھی حتمی ریفرنس دائر کیا جاسکتا ہے۔

سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر نے سماعت جمعہ تک ملتوی کرنے کی استدعا کی۔ اس پر عدالت نے یہ واضح کرتے ہوئے کہ ضمانت کی درخواست پر فیصلہ اسی سماعت پر ہوگا وکیلوں سے کہا کہ وہ دلائل مکمل کریں ۔

سندھ ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین کی وجہ سے کیس میں تاخیر ہوئی،فریقین نہیں چاہتے تھے کہ کیس چلے۔

متعلقہ دستاویزات پیش نہ کرنے پر عدالت نے نیب پر برہمی کا اظہار کیا اورکہا 20 ماہ سے ایک آدمی جیل میں ہے،آپکو انسانی حقوق کا خیال نہیں۔

 عدالت کے حکم کا جواب دیتے ہوئے نیب کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ متعلقہ کیسز میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کومد نظر رکھتے ہوئےخورشید  شاہ کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی جائے۔

دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے خورشید کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا اور فریقین کو جمعہ تک تحریری طور پر اپنے دلائل پیش کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی تحریری دلائل جمع کرانا چاہے تو ایک دو روز میں جمع کرواسکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button