خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں اعتراف

ن لیگی رہنما   اور سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے خاموشی توڑ دی۔خواجہ آصف نے  قومی اسمبلی میں اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ  زیادہ کھل کر بات نہیں کرنا چاہتا ہوں  بس مجھے لگتا ہے کہ جس قسم کے حالات جارہے ہیں،ہم سب کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہونے کے قریب ہےاور میرا سافٹ ویئر بھی اپ ڈیٹ ہوچکا ہے۔

اسپیکرکو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ بھی مسکرا رہے ہیں ،آپ بھی سمجھ رہے ہیں میں کیا بات کر رہا ہوں۔

انہوں نے خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میاگلے ماہ میں 72 سال کا ہوجاؤں گا،32 سال مجھے اس ایوان میں آئے ہوئے ہو گئے ہیں۔

سب جانتے ہیں کہ پچھلی سات دہائیوں میں سیاستدانوں نے کس طرح اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنے اقتدار کا  بھاؤ تاؤ کیا ہے۔عرف عام میں اسٹیبلشمنٹ پنڈی کو کہا جاتا ہے۔جب تک فری اینڈ فیئر (شفاف) الیکشن اس ملک میں نہیں کرائے جائیں گے تب تک اس ملک کی بیماریوں کا علاج نہیں ہوسکتاہے۔

شفاف الیکشن نہ ہوئے تو سیاست دان ہمیشہ پنڈی کی طرف ہی دیکھتے رہیں گے اور کہتے رہیں گے ہمیں کندھا دو اور اقتدار میں لاؤ ۔ لیکن اس اسٹیبلشمنٹ  میں سرکار ،فوج، میڈیا اور عدلیہ بھی شامل ہیں۔

فوجی حکومت کی مدد

ہم جنہیں اقتدار کے لیے آواز دیتے ہیں آہستہ آہستہ  ان کا قبضہ بڑھ جاتا ہے ۔ہر دور میں سیاستدانوں نے فوجی حکومت کی مدد کی ہے۔

خواجہ آصف نے کہا سیاستدان سہولت کا رنہ بنیں  تو کوئی ہماری آئینی حدود پر قبضہ نہیں کرسکتا۔ہم نے قوم کو ناکام کیا ،آج ریاست  کے وجود کو خطرہ ہے اور ہمیں بدترین بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں۔عوام کے پاس جائیں ان سے ایک صاف اور شفاف مینڈیٹ لیں۔

حکومتی جانب سے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے قومی اسمبلی کی کاروائی میں حصہ لیا اور خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ 72 سال کے اوپر نظر دوڑاتے ہیں تو کارکردگی میں آپکو کمی نظر آتی ہے۔ 30،30 سال حکومت کرتے رہے اور اگر ملک اس حالت میں ہے تو  انکی کارکردگی  پر سوال اُٹھتا ہے۔

آج یہ ہمارے لیڈر ہیں ،کل انکے بچے ہمارے لیڈر ہوں گے،انکے نواسے ،نواسی ہمارے لیڈر ہوں گے،انکے رشتہ دار ہمارے لیڈر ہوں گے۔

لوگوں نے دیکھا کہ لوگ اس پروفیشن میں آئے اور راتوں رات کہاں سے کہاں پہنچ گئے جو موٹر سائیکلوں پر  آئے وہ مرسڈیزوں میں بیٹھ گئے۔جن کے پاس اپنا مکان نہیں تھا اُنکی آج دنیا جہاں میں جائیدادیں بن گئیں ہیں۔

اسپیکر صاحب اگر ہم نے جمبہوریت کو آگے لے کر چلنا ہے اور بہتر بنانا ہے تو کیا اس وراثتی سیاست کو چلتے رہنا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button