کراچی یونیورسٹی : ٹیچر کو تین سال قید

سٹی کورٹ نے بدھ کے روز کراچی یونیورسٹی کے ایک مرد استاد کوسوشل میڈیا ویب سائٹ پر خاتون ساتھی کو ہراساں کرنے کا جرم ثابت ہونے پر تین سال قید کی سزا سنائی ہے

ڈاکٹر فرحان کامرانی ، جو کے کراچی یونیورسٹی میں شعبہ نفسیات کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں ، ان پر جعلی نام سے فیس بک اکاؤنٹ بنا کر ایک خاتون ٹیچر کو ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا ۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (ایسٹ) خالد حسین شاہانی نے مجرم کو ایک ملین یعنی دس لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے ، جس کی ادائیگی میں ناکامی ہونے کے باعث انہیں اضافی قید کی سزا ہوگی ۔

فیصلہ سناتے ہوئے جج نے ملزم کی منظور شدہ ضمانت منسوخ کردی ، جس کے بعد انہیں کمرہ عدالت سے گرفتار کیا گیا اور سزا سنانے کے بعد جیل بھیج دیا گیا ۔

خاتون ٹیچر نے سنہ 2016 میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے پاس شکایت درج کروائی تھی ، جس میں کہا گیا تھا کہ کسی نے گرین وچ یونیورسٹی کے پیج پر کسی پروفائل کا لنک پوسٹ کیا تھا جس میں ان کی جعلی فحش تصاویر تھیں ۔

خصوصی پبلک پراسیکیوٹر ذاکر حسین کے مطابق ، ایف آئی اے نے سوشل میڈیا ویب سائٹ کی مدد طلب کی اور ملزم کو اس کی رہائش گاہ تک ڈھونڈ لیا ، ساتھ ہی اس کے لیپ ٹاپ پر بھی شواہد ملے کہ اسی لیپ ٹاپ سے وہ فیس بک اکاؤنٹ استعمال ہوا ہے ۔

عدالت نے الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ کی دفعہ 21 کے تحت جرم ثابت ہونے پر ملزم کو تین سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button