کراچی : نہ سروں پر چھت نہ پیروں کے نیچے زمین

پیر کے روز مظاہرین کی ایک بڑی تعداد سپریم کورٹ کراچی کے باہر جمع ہوئی تھی تاکہ شہر کے گوجر نالہ کے آس پاس مکانات کو مسمار کرنے سے متعلق حکم امتناع کے لیے اعلی عدالت سے درخواست کی جاسکے ۔

سپریم کورٹ نے کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کی جانب سے پانی کے نالے کے ساتھ لیز پر دیئے گئے مکانات کے انہدام کے بارے میں دائر درخواست کی سماعت کی ۔ کے ایم سی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ساتھ ملی بھگت سے تجاوزات کو ہٹایا جا رہا ہے ۔ چیف جسٹس نے فیصلہ دیا ہے کہ ہر صورت تجاوزات کو ختم کیا جائے گا ۔

گجر نالہ تین کراچی کے بڑے نالوں میں سے ایک ہے جو بارش کے پانی کو آسانی سے بہا کر سمندر کی طرف لے جاتا ہے۔ دیگر دو نالے محمود آباد اور اورنگی ٹاون میں ہیں ۔ گذشتہ سال اگست میں مون سون بارشوں کے بعد شہر میں سیلاب آنے کے بعد حکومت سندھ نے ان نالوں کے آس پاس تجاوزات ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

پیر کا احتجاج کراچی بچاؤ تحریک ، سماجی کارکنوں ، عوامی ورکرز پارٹی ، پروگریسواسٹوڈنٹس فیڈریشن ، ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ اور دیگر تنظیموں کی مشترکہ ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام کیا گیا تھا ۔

محمد عابد نامی مظاہرین نے نیوز ایجنسی کو بتایا کہ تمام رہائشیوں کے پاس کے۔ ایم ۔سی کے جاری کردہ لیزنگ پیپر ہیں۔ سپریم کورٹ ان لیزوں کو جعلی کیسے کہہ سکتی ہے؟ انہوں نے کہا ، اعلی عدالت کو کم از کم لیزوں کی تصدیق کرنے کی ضرورت ہے ۔ اگر ہمارے لیز جعلی ہیں تو ملک کے تمام ادارے جعلی ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button