سندھ میں امتحانات کے نام پر مذاق

گزشتہ روز میٹرک کے پہلے   پیپر کے دن بد انتظامی اور  نقل کے واقعات ایسے وقت میں سامنے آئے جب سندھ  کی وزارت تعلیم کی کنٹرول اتھارٹی یعنی وزیر اعلی سندھ ملک سے باہر ہیں۔

لیکن کراچی میں میٹرک  امتحانات کے انتظامات میں بد انتظامی پر  وزیر اعلی کے مشیر نثار کھوڑو نے میٹرک بورڈ کے   ناظم کو طلب کر کے برہمی کا اظہار کیا۔

پرچہ آؤٹ ہونے اور تاخیر سے پہنچنے کے متعلق باز پرس کی جس پر  ناظم امتحانات نے سارا ملبہ سینٹرل کنٹرول آفیسرز پر ڈال دیا ۔

ناظم امتحانات محمد شاہد  نے کل ہونے والی تمام بدانتظامی بورڈ کے سی سی او پر ڈال دی  اور کہا کہ وہ وقت پر نہیں آئے جس  کے باعث کراچی میں کئی سینٹرز پر پرچہ تاخیر کا شکار ہوا اور کئی جگہ پر ملتوی کرنا پڑا۔

پیپر  آؤٹ بھی ہوا اور نقل کا بازار بھی گرم رہا تاہم ناظم امتحانات نے یقین دہانی کرادی ہے کہ جو پرچے باقی ہیں ان میں اس طرح کی بد انتظامی نہیں ہوگی۔

اُدھر   دوسرے روز بھی نوابشاہ ،ٹنڈوالہیار اور سانگھڑ میں ریاضی کا پرچہ آؤٹ ہوگیا،لاڑکانہ اور جیکب آباد میں بھی کھلم کھلا نقل چلتی رہی۔

امتحان شروع ہوتے ہی  پرچہ آؤٹ ہوکر واٹس ایپ پر آگیا ،طلباء  موبائل فون اور گائیڈز کی مدد سے نقل کرتے رہے۔

بورڈ انتظامیہ پورے پرچے کے دوران غائب رہی  جبکہ پولیس نے امتحانی مراکز کے قریب فوٹو اسٹیٹ شاپس تو بند کرادیں لیکن وہ نقل روکنے میں پوری طرح ناکام رہی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button