قومی اسمبلی میں عینک والا جن

قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں مریم اورنگزیب تقریر کرنے کھڑی ہوئیں تو    90 کی دہائی کے ہٹ ڈرامے  "عینک والا جن” کے کردار زکوٹا جن کا تذکرہ شروع کردیا۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عمران خان نے  100 دن میں پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے ، 1کروڑ   نوکریاں اور 50 لاکھ  گھر فراہم کرنے کے دعوے کیے تھے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ عمران خان نے کہا تھا  کہ جنوبی پنجاب صوبہ بنے گا ،وزیر اعظم ہاؤس سے لے کر گورنر ہاؤس تک یونیورسٹی بنے گی ،ان ڈائیریکٹ ٹیکس نہیں لگاؤں گا،ساڑھے 3 سو ڈیم بناؤں گا جن سے  سارے پاکستان کو بجلی ملے گی۔

ن لیگی رہنما کا یہ بھی کہنا تھا کہ  عمران خان نے کہا تھا  کہ خود کشی کرلوں گا  مگر آئی ایم ایف نہیں جاؤں گا مگر وہ سب بھول گئے۔

دعوے یاد دلانے کے بعد مریم اورنگزیب  کارکردگی کی جانب آئیں اور کہا کہ 2 سال 10 ماہ اور 7 دن  کی کارکردگی  یہ ہے کہ  6 بار کابینہ بدلی،4 بار وزیر خزانہ بدلا،4 بار ایف بی آر کا چیئرمین بدلا، سولہ فیصد مہنگائی کی ،بچوں کے دودھ -دہی-مکھن پر 17 فیصد ٹیکس لگادیے اور پیٹرول کے اوپر 610ملین کی  لیوی لگادی گئی،50 لاکھ لوگ بے روزگار کیے اور اب ایک ایسا بجٹ لے آئے جو خون چوس ہے،ہڈی توڑ  ہے اور زکوٹا جن ہے جو کہتا ہے کہ مجھے”کام بتاؤ،میں کیا کروں،میں کس کو کھاؤں”۔

مافوق الفطرت قوتیں

انہوں نے مزید طنز کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعلی کارکردگی کسی وزیر یا مشیر کا کام نہیں ہے، کوئی مافوق الفطرت قوتیں ہیں جن کے ذریعے عمران صاحب نے اتنی تیزی سے اتنا  زیادہ بیڑا غرق کر دیا  بلکہ  یہ اس زکوٹا جن کی کارکردگی ہے جو عمران خان صاحب کے پاس پہلے دن سے موجود ہے۔

یہ جن ساڑھے 4 سو ارب کی چینی کھا گیا،122 ارب کی ایل این جی کھا گیا 250 ارب کا آٹا کھا گیا اور 1200 ارب کی ویکسین کھا گیا۔

تئیس (23)فارن فنڈنگ اکاؤنٹس سے زکوۃ کے پیسے کھا گیا لیکن پھر بھی عمران خان کرپٹ نہیں،جھوٹا نہیں،نالائق نہیں اور نااہل نہیں بلکہ عمران خان نے تمام پورٹ فولیوز زکوٹا جن کے حوالے کیے۔

مریم ایک بار پھر عمران خان کے دعووں کی طرف آئیں اور یاد دلایا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ میں چہرے نہیں بدلتا بلکہ میں نظام بدلوں گا اور انہوں نے نظام کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔

انہوں نے کہاکہ ایک اور جن ہے جو عمران خان کو  نواز شریف اور شہباز شریف سے مذکرات کرنے نہیں دیتا اور یہ جن انا کا جن ہے جو نظام چلنے نہیں دیتا اور زکوٹا جن  بچے کچے نظام کی ہڈیاں چبا رہا ہے۔

بل بتوڑی

حکومتی صف میں سے مریم اورنگزیب کی تقریر کا جواب دینےکے لیے عامر لیاقت کھڑے ہوئے اور کہا کہ بل بتوڑی کیسے زکوٹا جن کا ذکر کر سکتی ہے اگر زکو ٹا کا ذکر کرنا ہوگا تو عینک والا جن آئے گا  نا اس کے لیے اور وہ آگیا،عامرلیاقت نے عینک والے جن کا نام لیتے ہوئے خود کی جانب اشارہ کیا۔

عامر لیاقت نے بلاول کو بھی نشانے پر لیا اور کہا کہ  بلاول بار بار کہتے ہیں کہ عمرانی حکومت آنے کے بعد میں اگر دیکھتا ہوں تو صرف گدھوں کی افزائش ہوتی نظر آرہی ہے۔

جبکہ لاڑکانہ میں اس وقت جتنے کتے ہیں  جن کی افزائش ہورہی ہے ،بلاول صاحب زرا اس کا بھی تذکرہ کر دیتے،عامر لیاقت نے بلاول کی بات کا جواب دیا ۔

انہوں نے مزید کہا کہ  بلاول کو سندھ میں کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نظر نہیں آرہی وہ تو کہہ رہے تھے کہ صرف گدھے بڑھے ہیں  اور  جان لیں کہ گدھے تو اس لیے بڑھے ہیں کہ ہم نے کھوتا بریانی پر پابندی جو لگادی  ہے،عامر نے صدا لگائی کہ کسی ڈاکٹر کو بلا کر دکھایا جائے بلاول کا دماغ جسم سے جدا ہوگیا ہے،گدھے ہیں ،گدھے ہیں رٹے جارہے ہیں یہ پی پی کے چیئرمین کو کیا ہوگیا ہے۔

عامر لیاقت نے  پی پی کے نو منتخب رکن ا سمبلی قادر مندوخیل کو پڑنے والےفردوس عاشق اعوان کے تھپڑ کا تذکرہ بھی کیا ا ور کہا کہ جناب مندوخیل صاحب کو منتخب ہونے  پر مبارکباد دینا چاہوں گا اور جاننا چاہوں گا کہ تھپڑ لگا تھا تو کیسا محسوس ہوا تھا ۔ انہوں نے فردوس عاشق اعوان کے لیے ایک شعر بھی کہا کہ یوں تو فردوس بھی ہو،عاشق بھی ہو ،اعوان بھی ہو ۔تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو ذرا پہلوان بھی ہو۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button