جہانگیر ترین کا عشائیہ، نیا گروپ بن گیا

کل (منگل) کے روز جہانگیر  خان ترین نے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے    اعزاز میں ایک بار پھر عشائیہ دیا ۔

نشست میں 30 سے زائد ارکان اسمبلی نے شرکت کی  جن میں حافظ نعمان لنگڑیال،راجہ ریاض،نذیر چوہان،فیصل جبوانہ،خواجہ شیراز ،اجمل چیمہ ،اسلم بھروانہ   اور متعدد ارکان شامل ہیں۔

پچھلے ماہ راجہ ریاض کی صدارت میں   ارکان نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی تھی جس میں جہانگیر ترین کے حق میں تحفظات کو وزیر اعظم کو پیش کیا گیا تھا  جس پر وزیر اعظم نے بیریسٹر علی ظفر  کو یہ ٹاسک سونپا تھا کے انکے تحفظات دور کیے جائیں  چنانچہ کل اسی سلسلے میں جائزہ اجلاس  رکھا گیا  تھا ۔

تاہم آج (بدھ) کے روز پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما جہانگیر خان ترین نے لاہور میں جوڈیشل کمپلیکس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے  گزشتہ روز عشائیہ میں ہونے والی کاروائی سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ  ارکان نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم پنجاب حکومت کی طرف سے ہونے والی انتقامی کاروائیوں کے خلاف پنجاب اسمبلی میں آواز آٹھائیں گے،انہوں نے بتایا کہ  خان صاحب نے یقین دلایا کہ کسی کے ساتھ نا انصافی  ہوگی نہ کوئی انتقامی کا روائی ہوگی اور ہمیں عمران خان پر پورا یقین ہے  کیونکہ وہ ایک انصاف پسند  انسان ہیں ،امید کرتے ہیں کہ  ہمارےکیسوں میں بھی  ہمارےساتھ انصاف کیا جائے گا ،لیکن     فی الحال پنجاب حکومت نے ہمارے خلاف انتقامی  کاروائیاں شروع کر رکھی ہیں ۔

انہوں نے بتایا کہ میرے گروپ    کہ لوگوں پر پنجاب حکومت  نے دباؤ ڈالنا  شروع کردیا انکے افسران کے دائیں بائیں تبادلے شروع کردیے  ہیں لہذاانکے اس دباؤ اور انتقامی کاروائیوں کے نتیجے میں ہم نے کل  عشائیہ میں پنجاب اسمبلی میں آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا  ہے۔

جہانگیر خان ترین سوال و جواب

فارورڈ گروپ بنانے سے متعلق سوال کے جواب جہانگیر خان ترین نے کہا کہ وہ اور ان کے گروپ کے دیگر ممبران قومی اسمبلی کے ساتھ ساتھ پنجاب اسمبلی میں بھی فارورڈ بلاک کے قیام کے امکان کو مسترد کرتے ہیں،تحریک انصاف تقسیم نہیں ہوئی ہے،تحریک انصاف میں  تھے،ہیں اور رہیں گے،مزید کہا ہر سیاسی پارٹی میں گروپس ہوتے ہیں،یہ گروپ تین مہینے سے بنا ہوا ہے ،یہ تاثر غلط ہے کہ کل بنا ہے۔

لاہور میں جوڈیشل کمپلیکس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ وہ کبھی بھی عدالتوں میں پیش ہونے سے گریز نہیں کرتے ہیں نہ کریں گے۔

انہوں نے دعوی کیا کہ  میں  نے اپنے  کیسز  میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو ایک مکمل رقم کی ٹریل   مہیا کی ہے۔ انہوں نے مزید دعوی کیا کہ”میرے خلاف درج تینوں ایف آئی آرز میں لفظ’ شوگر ‘کا کوئی ذکر نہیں ہے”۔

 جہانگیر ترین  نے مزید کہا کہ ان کے وکلاء نے بیرسٹر علی ظفر کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی ہے ، اور امید ہے کہ وہ جلد ہی انکے مقدمات سے متعلق ایک رپورٹ سامنے لائیں گے۔

قبل ازیں ایڈیشنل سیشن جج حامد حسین نے آج (بدھ کے روز)منی لانڈرنگ کیس میں جہانگیر خان ترین اور ان کے بیٹے علی ترین سمیت 11 ملزمان کو دی گئی عبوری ضمانتوں میں 31 مئی تک توسیع کردی ہے۔ اسی طرح بینکنگ کورٹ کے جج امیر محمد خان نے بھی جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں ترین اور دیگر ملزمان کو دی جانے والی ضمانتوں میں 31 مئی تک توسیع کردی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button