جہانگیر ترین اور بیٹے پر تین ارب کے فراڈ کا مقدمہ

ایف آئی اے نے ایک سال سے شوگر سٹہ مافیا اور ان سے متعلق شوگر ملز عہدےداران کے خلاف تحقیقات شروع کر رکھی ہیں،جسکے نتیجے میں (ایف آئی اے)لاہورکی تحقیقاتی ٹیم نے 22 مارچ کو تحریک انصاف کے رہنما  جہانگیر ترین اور انکے بیٹے  کے خلاف 3 ارب14 کروڑ روپے کے مبینہ فراڈ کا مقدمہ درج کیا تھا،اورایف آئی اے کی شوگر سٹہ مافیا کی تحقیقاتی ٹیم نے مریم نواز اور شریف فیملی کی چوہدری شوگر ملز کے عہدیداروں کو 31 مارچ کو طلب بھی کر رکھا تھا۔

تاہم ایف آئی اے کی شوگر سٹہ مافیا کی تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے آج ایک ہی دن میں دو مقدمات میں ایف آئی آر درج کی گئی۔پہلی ایف آئی آر ایف آئی اے (وفاقی تحقیقاتی ادارہ) نے  تحریک انصاف کے رہنما  جہانگیر ترین اور انکے خاندان کے خلاف تین ارب  14 کروڑ روپے کے مالیاتی فراڈ  اور منی لانڈرنگ کے مقدمےمیں درج کی ہے، جہانگیر ترین نے اپنے داماد کی کاغذ بنانے والی بند فیکٹری  پلپ میں جے ڈی ڈبلیو کمپنی سے سوا تین ارب منتقل کیے، اور پھر یہ سوا تین ارب فیملی ممبرز کے اکاؤنٹس میں منتقل ہوئے۔

دوسری ایف آئی آر , ایف آئی اے نے سابق سیکرٹری ایگری کلچر رانا نسیم کے خلاف شوگر ملز مافیا کی سرپرستی  کرتے رہنےکے مقدمے میں درج کی ہے، ایف آئی اے کے مطابق  رانا نسیم ہی اصل میں شوگر مل مافیا کی سرپرستی کرتے رہے ہیں۔

Back to top button