اسرائیل کی وحشیانہ جارحیت جاری

پیر کے روز اسرائیل کے جنگی طیاروں کے غزہ پر حملوں کے نتیجے میں 10 بچوں سمیت 28 فلسطینی شہید ہوگئے، اسرائیل کے طیاروں نے غزہ میں 130 مقامات کو نشانہ بنایا ۔

پیر ہی کے روز بیت المقدس میں اسرائیلی پولیس کے بہیمانہ تشدد کے نتیجے میں 700 سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے ۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کی شیلنگ سے مسجد اقصی میں آگ لگ گئی جسے دیکھ کر انتہا پسند یہودی جتھے نے ہیجانی رقص کیا اور نعرے لگائے ۔

مغربی میڈیا نے سفارتی ذرائع سے بتایا ہے کہ اقوام متحدہ ،مصر اور قطر لڑائی کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پیر کے روز ترک صدر رجب طیب اردگان نے بیت المقدس میں تشدد میں اضافے کے دوران فلسطینی رہنماؤں کو فون کالوں میں اسرائیلی "دہشت گردی” کو روکنے کے لئے دنیا کو متحرک کرنے کے عزم کا اظہار کیا ۔

اردگان نے فلسطینی صدر محمود عباس اور حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ سے اسرائیل کے اقدامات کی مذمت کرنے اور حمایت میں توسیع کے لئے الگ الگ فون کیا۔

ان کے دفتر نے کہا کہ انہوں نے عہد کیا کہ "وہ پوری دنیا کو متحرک کرنے کے لئے ، اسلامی دنیا سے اسرائیل کے دہشت گردی اور قبضے کو روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے”۔

شاہ محمود قریشی

دریں اثنا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے ترک ہم منصب کے ساتھ "فلسطین کی بڑھتی ہوئی خوفناک اور جابرانہ صورتحال” پر بات کی۔

انہوں نے کہا ، "ترکی کے او آئی سی اور اقوام متحدہ کا اجلاس بلانے کے مطالبے کی مکمل حمایت کرتے ہیں، اسلام کے قبلہ اول مسجد اقصیٰ پر برپا طوفان ، بچوں کی ہلاکت اور بے دخل کرنے پر مجبور کرنابالکل ناقابل قبول ہے۔
اردگان جنھوں نے طویل عرصے سے اپنے آپ کو فلسطینی مقاصد کا علمبردار کہتے ہیں نے ہفتے کے روز اسرائیل کو ایک ”ظالمانہ دہشت گرد ریاست“قرار دیا تھا۔

اسرائیل اور ترکی کے مابین تعلقات اس وقت سے کشیدہ ہیں جب ایک ترک این جی او نے بحری جہازوں کے ایک فلوٹلا کی نگرانی کی تھی جس نے سن 2010 میں اسرائیل کی غزہ کی پٹی کو روکنے کی کوشش کی تھی۔

فلسطینیوں پر مظالم اور مسجد اقصی میں جاری جارحیت کے خلاف ترک دارالحکومت استنبول اور انقرہ میں اسرائیل کے سفارتخانے اور قونصل خانے کے باہر اتوار کی شام سیکڑوں افراد ریلی کی شکل میں پہنچے اور موبائل کی ٹارچ جلا کر فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور اسرائیل کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا، کورونا وائرس وبائی امراض کے دوران بڑے عوامی اجتماعات پر پابندی کے باوجود ترک پولیس نے مداخلت نہیں کی۔

Back to top button