اسرائیلی مظالم مسجد ابراہیم کو بند کردیا گیا

الخلیل : اسرائیل نے فلسطین کے شہر الخلیل میں واقع تاریخی مسجد ابراہیم کو مسلمانوں کے لیے بند کردیا ہے ۔

ایک ترک خبررساں ادارے کے مطابق مسجد ابراہیم کے امام نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج نے یہودیوں کے مذہبی تہوار روش ہشنہ کی تقریبات کے موقع پر مسجد میں مسلمانوں کے داخلے پر 2 روز کے لیے پابندی لگائی ہے اور اس میں صرف یہودیوں کو داخلے کی اجازت دی گئی ہے ۔

اس بات کا خیال رہے کہ فلسطین کے تاریخی شہر الخلیل میں واقع مسجد ابراہیم مسلمانوں اور یہودیوں دونوں کے لیے مقدس جگہ سمجھی جاتی ہے ۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مسجد ابراہیم ہی میں حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیہ السلام کی تدفین کی گئی تھی ، اسی لیے یہ مسجد مسلمانوں اور یہودیوں کے لیے مقدس مانی جاتی ہے ۔

پچیس سال پہلے ایک یہودی آباد کار نے مسجد میں داخل ہو کر فائرنگ بھی کی تھی جس کے نتیجے میں 29 نمازی شہید ہوگئے تھے جس کے بعد سے قابض صیہونی انتظامیہ نے مسجد کو 2 حصوں میں تقسیم کرکے ایک حصہ یہودیوں کے لیے مختص کردیا تھا ۔

اس مسجد ابراہیم کو اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے 2017 میں دنیا کے آثار قدیمہ کی فہرست میں بھی شامل کیا تھا ۔

یہ بات بھی واضح رہے کہ اس وقت الخلیل شہر میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد مسلمان آباد ہیں جب کہ چند سو غیر قانونی یہودی آبادکار بھی یہاں رہائش پذیر ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button