کیا ملک مکمل لاک ڈاؤن کی طرف جارہا ہے

کیا پاکستان مکمل لاک ڈاؤن کی طرف جا ئیگا؟ فیصلہ جلد نیشنل اینڈ کمانڈ آپریشن سینٹر کے اجلاس میں متوقع ہے ۔

ملک میں عوام کی جانب سے کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی اور حکومت کی جانب سے ان پر عمل در آمد کرائے جانے کی کوششیں جاری ہیں دوسری طرف کورونا کی ویکسینیشن بھی جاری ہے اور دوسرے مرحلے میں 60 سال سے بڑی عمر کے افراد کو ویکسین لگائی جا رہی ہے ۔

ملک بھر میں ایڈلٹ ویکسینیشن مراکز قائم کیے جا چکے ہیں اور ویکسینیشن کا تمام تر عمل ڈیجیٹل میکنزم سے کنٹرول کیا جائے گا۔

ویکسینیشن کے لیے پنجاب میں 189 اور سندھ میں 14 مراکز قائم کیے گئے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں 280، بلوچستان میں 44 اور اسلام آباد میں 14 ویکسینیشن سینٹر قائم کیے جا چکے ہیں۔ آزاد کشمیر میں 25 اور گلگت بلتستان میں بھی 16 مراکز کے ذریعے ویکسینیشن کی جائے گی ۔

  ملک میں کورونا کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر فیصلہ نیشنل اینڈ کمانڈ آپریشن سینٹر( این سی او سی )کے اجلاس میں اہم اقدامات پر غور کیا جائیگا ۔ این سی او سی کے فیصلوں پر مکمل عمل درآمد نہ کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن، ہاٹ اسپاٹ ایریاز سے متعلق مزید سخت ایس او پیز، تجارتی مراکز، سیاحتی سرگرمیوں سے متعلق نئے پالیسی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

متاثرہ علاقوں میں سخت لاک ڈاؤن، کرونا پھیلاؤ والے علاقوں کو ریڈ زون قرار دینے اور امتحانات کیلئے کھلے اسکول بند کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں ،وفاقی دارالحکومت میں کرونا ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کے لیے دفعہ ایک سو اٹھاسی نافذ کیے جانے کا فیصلہ بھی اجلاس میں ہوگا، دفعہ ایک سو اٹھاسی کے تحت کرونا کے ایس او پیز پرعمل نہ کرنے والے دکاندار کو گرفتار کیا جاسکے گا۔

Back to top button