کیا چینی سفیر نشانے پر تھَے ، کوئٹہ بلاسٹ

پاکستان میں حکام نے جمعرات کے روز بتایا کہ جنوب مغربی شہر کوئٹہ میں لگژری ہوٹل میں رات گئے کار بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد کم از کم پانچ ہوگئی ہے ، دھماکے سے یہ ظاہر ہورہا تھا کہ آنے والے چینی سفارت کاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے جمعرات کے روز بریفنگ میں کہا کہ بیجنگ نے اس بم دھماکے کی "شدید مذمت” کی اور متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کیا، وینبن نے تصدیق کی اور کہا کہ نونگ رونگ ایک وفد کے ہمراہ تھے اور وہ سرینا ہوٹل میں ٹھہر رہے تھے ۔

جب حملہ ہوا تو چینی وفد ہوٹل میں موجود نہیں تھا، اس حملے میں اب تک کسی چینی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے ، وینبن نے بتایا کہ انہوں نے اس بارے میں کوئی خدشہ ظاہر نہیں کیا کہ آیا اس حملے میں رونگ کے وفد کو خاص طورپر نشانہ بنایا گیا تھا یا نہیں۔

کالعدم پاکستانی طالبان عسکریت پسند گروپ نے اس بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ خودکش بم دھماکے کا مطلوبہ ہدف "غیرملکی عہدیداروں پر مشتمل ایک اعلی سطحی میٹنگ” میں شرکت کرنے والا وفد تھا ۔

وین بین نے کہا "اس وقت پاکستان میں متعلقہ محکمے اس واقعے کی تحقیقات کے لئے پوری کوشش کر رہے ہیں، ہمیں یقین ہے کہ پاکستانی فریق جلد ہی سچائی کا پتہ لگائے گا اور قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے گا۔

پاکستانی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ یہ حملہ ایک ملکی سیکیورٹی کی بڑی خلاف ورزی ہے اور ذمہ داروں کا محاسبہ کرنے کے لئے اعلی سطح کی تحقیقات کی جائیں گی۔

Back to top button