بھارت مذہبی عصبیت پسند ممالک میں شامل

ایک  آزاد امریکی کمیشن نے بدھ کے روز مسلسل دوسرے سال ہندوستان کو مذہبی آزادی کے لئے بلیک لسٹ میں ڈالنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک دن بدن خراب ہوتا جارہا ہے ۔

گذشتہ سال بین الاقوامی مذہبی آزادی کے بارے میں امریکی کمیشن کے مطالبے پر ہندوستانی حکومت نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا لہذا اس بات کا بہت کم امکان باقی رہ جاتا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کمیشن کے مشورے پر عملدرآمد کرے گا اور امریکہ کے تیزی سے قریب ہوتے اتحادی بھارت کی مذمت کرے گا۔

 کمیشن نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ہندوستان میں مذہبی آزادی کے حالات میں روز بروز گراوٹ آتی جارہی ہے کمیشن تو سفارشات پیش کرتا ہے لیکن امریکہ پالیسی مرتب نہیں کرتا ہے ۔ اس میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے ہندو قوم پرست پالیسیوں کو فروغ دیا جس کے نتیجے میں مذہبی آزادی کی منظم ، جاری اور متشدد خلاف ورزی ہوئی ہے۔

کمیشن نے نئی دہلی میں گذشتہ سال مہلک فسادات کے دوران مسلمانوں کے خلاف تشدد میں پولیس کے ملوث ہونے کی نشاندہی کی تھی اور مودی کے زیر انتظام شہریت کے قانون پر تشویش بھی ظاہر کی تھی کہ مودی ذہنیت کے گروہ کا کہنا تھا کہ مسلمان غیر ہندوستانی ہیں۔

اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہندوستان کی حکومت بھارت کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش سمیت بین المذاہب شادیوں پر پابندیوں میں اضافے پر عدم اعتماد کو دور کررہی ہے اور تشویش کا اظہار کرتی ہے۔

بھارت سے متعلق سفارش پر سابق کمشنر ڈونلڈ ٹرمپ کے تقرر کردہ ایک کمشنر جانی مور کی طرف سے اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ جانی مور نے ایک بیان میں کہا کہ ہندوستان "ایک سنگم پر” تھا لیکن انہوں نے کہا کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے جس میں مذہبی آزادی کی آئینی ضمانت موجود ہے۔

کمیشن نے ہندوستان کے علاوہ محکمہ خارجہ سے روس ، شام اور ویتنام کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

Back to top button