بھارت کا اپنی سازشوں کا اعتراف

بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) کا  پاکستان کے خلاف سیاسی استعمال کا اعتراف کرلیا۔

حالیہ فیٹف سمٹ  میں پاکستان کے خلاف ہونے والی بھارتی سازش بے نقاب ہوگئی ہےاور خود بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے اس کا اعتراف بھی کیا ہے۔

بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق جے شنکر کا ایک تقریب  میں بی جے پی کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ  مودی حکومت نے پاکستان کو فیٹف کی گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کو یقینی بنایا۔

انہوں نے بتایا کہ  بھارتی کوششوں کے باعث ہی فیٹف نے پاکستان  کو گرے لسٹ میں  برقرار رکھاہے ۔

جے شنکرکا دعوی  تھا کہ بھارت نے اپنے تمام ہمسائیوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات بنائے رکھنے کی کوشش کی ہے اور ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنایا ہے کہ دہشت گردی سے  ایک عالمی مسئلے کے طور پر نمبٹا جائے۔جے شنکر کا کہنا تھا کہ  بھارت چین کے بھی کسی دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا۔

بھارت کے وزیر خارجہ نے اعتراف کیا  ہےکہ بھارت کی وجہ سے ہی پاکستان فیٹف کی گرے لسٹ  اب تک موجود ہے۔جسکے بعد پاکستان کے فیٹف کے سیاسی استعمال کے موقف کی تائید ہوگئی۔

یہ بھی ثابت ہوگیا کہ فیٹف بھارتی اثر و رسوخ کے زیر اثر ہے اور یہ بھی کہ ہندوتوا کی جانب سے عالمی اداروں کو بھارت کے زیر اثر لانے کی کوششیں جاری ہیں ۔

ساتھ ساتھ یہ سوال بھی پیدا ہوگیا ہے کہ کیا  فیٹف اب بھارتی اثر ورسوخ سے نکل کر  خود مختار اور آزاد ادارہ بن کر دکھائے گا۔

یہ ضرورت بھی پیدا ہوگئی کہ  فیٹف بھارتی رُکنیت منسوخ کرے یا اپنے موقف کی وضاحت کرے۔بھارت غلط معلومات کے ذریعے یو این ای یو کو داغدار کر رہا ہے۔

بدترین ملک بھارت

عالمی رپورٹ کے مطابق آئی ایس آئی ایس کو بھارتی کمپنیوں نے ہتھیار فروخت کیے۔ امریکہ نے بھارت کو ہیروئن کے حوالے سے بدترین ملک قرار دیا۔ بھارت سے ڈیڑھ ارب کی منی لانڈرنگ کے شواہد ملے لیکن فیٹف نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔

جے شنکر کا یہ بھی دعوی تھا کہ ہم پاکستان پر دباؤ ڈالنے میں کامیاب رہے ہیں اور اسی کے رد عمل میں پاکستان کے رویے میں تبدیلی آئی ہے۔

پاکستان کے وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کو فیٹف کے منحرف مینڈیٹ کی چھان بین کرنا ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ عالمی اداروں کو اب بھارت کے خلاف ایکشن لینا ہوگا۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ایف اے ٹی ایف(فیٹف) کے مطابق  پاکستان نے 2018 کے ایکشن پلان کے 27 میں سے 26 اہداف حاصل کرلیے ہیں لیکن اُسے ابھی ایک آخری شرط اور نئی دی جارہی  6 نکات پر عمل کرنا ہوگا۔

اجلاس کے بعد ایف اے ٹی ایف کے صدر ڈاکٹر مارکس پلیئرکا ورچوئل پریس کانفرنس میں کہنا تھاکہ ہم تمام ممالک کو برابر سمجھتے ہیں، پاکستان کو مکمل27 اہداف حاصل کیے بغیر گرے لسٹ سے نہیں نکالا جا سکتا ہے۔

انہوں نےواضح کیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی قرارداد 1267اور1373 کے تحت نامزد دہشت گردوں پرمالی پابندیوں پر مؤثر عملدرآمد کرے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button