پشاور میں دلیپ کمار نے دہلیز کا بوسہ لیا

پشاور کے یوسف خان نے فلمی دنیا  میں  دلیپ کمار کے نام سے شہرت پائی۔دلیپ کمار کے آبائی گھر کی یادیں مرتے دم تک انکے ساتھ رہیں۔

انسان شہرت کی کتنی ہی بلندیوں پر پہنچ جائے لیکن اسکو شناخت اپنی مٹی سے ہی ملتی ہے۔اس بات کا ادراک دلیپ کمار جیسے لیجنڈ اداکار کو بھی تھا۔اپنی مٹی کی خوشبو اور پشاور کے گلی کوچوں کی کشش انکو بے چین کیے رکھتی۔

ایک بار دورہ پاکستان پر بالا حصار قلعہ پر کھڑے ہوکر ہاتھ میں مائک اور آنکھوں میں  اپنا شہر لیے  انہوں نے کہا تھا کہ میرے دل میں اپنے وطن کی اور اپنی جائے پیدائش کی ایک دھڑکن ہے۔یہ شہر بہت سی یادوں کی آماجگاہ ہے۔بچپن سےلڑکپن تک اور پھر لڑکپن سے آج تک کی ایک داستان اس میں مضمر ہے۔

دلیپ کمار ایک اور انٹرویو میں اپنے بچپن کی یادیں تازہ کرتے ہوئے ماضی کے جھروکوں میں کھو سے گئے اور  کہنے لگے کہ  "میں  ایک پشاور کا لڑکا ، بچہ وہاں محلہ خداداد میں پیدا ہوا ، بھاگتا پھرتا تھا گلیوں میں ، کہیں گیا بمبئی اور وہاں سکونت اختیار کی”۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی وقت ملا تو میں سوچتا تھا اور میری یاد میں وہ نقشے بلکل کھنچے ہوئے تھے۔ وہ چپلی کباب، پلاؤ اور وہ کابلی دروازہ جو اب انہوں نے توڑ دیا ہے اور وہ وہاں نہیں ہے۔

گھر کی دہلیز کو بوسہ

دلیپ کمار 1988 میں پاکستان آئے تو انہوں نے اپنے گھر کی دہلیز کو بوسہ دیا۔ 1998 میں بھی اپنے گھر کا دورہ کیا،قصہ خوانی بازار پہنچے تو مداحوں نے گھیر لیا اور وہ اپنے گھر کی جھلک نہ دیکھ پائے۔

دلیپ کمار کا کہنا تھا کہ ہم اگر آگے جاتے تو تکلیف کا باعث ہوتے،خاص طور پر ان لوگوں کے لیےجو  منتظمین تھے اور وہاں  لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ بن جاتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے یقین ہے کہ گھر تو وہیں ہے اور محلہ بھی وہیں ہے اپنی جگہ پر۔

محلہ خداداد کی گلی کے ایک کونے میں ایک خستہ حال گھر آج بھی دلیپ کمار کی یاد دلاتا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے اداکار دلیپ کمار کے پشاور میں واقع آبائی گھر  کو قومی ورثہ قرار دے کر خرید رکھا ہے ، جسے لیجنڈ اداکار کے نام سےمیوزیم میں تبدیل کردیا جائے گا۔

پشاور ڈسٹرکٹ کمشنر کیپٹن (ر) خالد محمود نے اداکار کے گھروں کے موجودہ مالکان کے اعتراضات کو ختم کردیا  ہے اور دونوں مکانات کو محکمہ آثار قدیمہ کے حوالے کرنے کا حکم  دے دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button