ہر صورت دنیا کو افغان حکومت سے بات کرنا چاہیے

اسلام آباد : ایک برطانوی آن لائن خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں جناب وزیراعظم عمران خان صاحب کا کہنا تھا کہ امریکا کا ساتھ دینے پر سرحدی علاقوں میں پشتون ہمارے خلاف ہوگئے تھے ، انہوں نے ہماری ریاست پر حملے شروع کیے اور خود کو پاکستانی طالبان قرار دیا تھا ۔

اور ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں خانہ جنگی سے بہت تباہی ہوئی ہے لیکن افغان طالبان نے ہمیں اب بھی یقین دلایا ہے کہ ان کی سرزمین سے کسی کو بھی پاکستان پر حملے کی اجازت کبھی نہیں دیں گے ۔

جناب وزیراعظم عمران خان صاحب نے کہا ہے کہ اب اگر امریکا علاقے سے نکل گیا ہے، ہم اتحادی نہیں رہے ہیں ، پشتونوں سے لڑائی میں ہم کسی کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں ، اب ان کی جارحیت بھی کم ہو گئی ہے ۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ مصالحت کی کوشش کر رہے ہیں جو ہتھیار پھینکنے کے لیے بلکل تیار ہیں ، جو نہیں مانیں گے حکومت جلد ان کے خلاف کارروائی کرے گی ۔

اسکے علاوہ وزیراعظم نے ایک بار پھر عالمی برادری کو افغانستان کو تنہا نہ چھوڑنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو افغانستان میں اتحادیوں کی ساری کوششیں ضائع برباد ہو جائیں گی ۔

اور انکا کہنا تھا کہ افغانستان کے معاملے پر امریکا کو ابھی قائدانہ کردارادا کرنا ہو گا، داعش سے مقابلے کیلئے طالبان اسکے پاس واحد آپشن ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button