وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اہم امور پر غور

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس گزشتہ روز ہوا جس میں 11 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا اور ملک کی معاشی اور سیاسی صورتحال بھی زیر غور آئی۔

اجلاس میں وفاقی کابینہ کو انتخاباتی اصلاحات پر بریفنگ دی گئی  اور الیکشن کمیشن کی جانب سے سوشل میڈیا پوسٹس پر تشویش کا اظہار کیا گیا،چیف الیکشن کمیشن سے وضاحت بھی طلب کی گئی کہ  پوسٹ سوشل میڈیا پر کیوں ڈالی گئیں۔

کالعدم تحریک لبیک  کی درخواست سے متعلق سمری  بھی منظور کی گئی اور اس پر کاروائی کے لیے کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔

کابینہ کے اجلاس میں افغانستان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ  معاہدے میں مزید 6 ماہ کی توسیع کی بھی منظوری دی گئی۔

کنٹونمنٹ بورڈز میں بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کی بھی منظوری دی گئی اور اسکے لیے وزارت دفاع کو  کاروائی آگے بڑھانے کی ہدایت بھی کردی گئی ہے ۔

اداراجاتی اصلاحات   کے 29 اپریل کے فیصلوں کی توثیق کردی گئی ہے۔

چند اہم فیصلے

پی ٹی وی کے چیئرمین اور بورڈ آف ڈائیریکٹرز کی تقرری کی سمری کی منظور کرلی گئی ہے اور ساتھ ہی ساتھ  حیسکو کے سی ای او کی تقرری کی منظوری  بھی دے دی گئی ہے ۔

این  ٹی ڈی سی  کے ایم ڈی کی عارضی جبکہ پاکستان ٹوبیکو  کے چیئرمین کی مستقل تقرری کی گئی ہے۔

وفاقی کابینہ نے پاکستان ہاؤسنگ  فاؤنڈیشن کے سی ای او کی تقرری  موخر کردی۔

کورونا سے نمٹنے کے لیے بوسنیا کی امداد کی سمری  پر بھی بریفنگ دی گئی اور اسکو منظور بھی کرلیا گیا۔

سی پیک سے منسلک چینی شہریوں کوویزا  دینے سے متعلق   بریفنگ دی گئی اور معیشت کے   مثبت  اعشاریوں سے متعلق اطمینان کا اظہار کیا گیا۔

وزیر اعظم نے معاملہ فلسطین پر  اور مسئلہ کشمیر پر ہونے والی حالیہ پیش رفت پر شاہ محمود قریشی  اور انکی ٹیم کی کارکردگی کو بھی سراہا اور اجلاس میں غلام سرور خان اور شیریں مزاری کے بھائی کی وفات پر فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button